فلڈ کی پیشنگوئی کرنے کے مطلق ٹیکنالاجی نیپال میں لوگوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Wednesday, 22 May 2013 10:45 GMT
ماہرین کا کہنا ہے کہ وارننگ ٹائم بڑانے میں پڑوسی چائنہ کی طرف سے تعاون مزید زندگیاں بچانے کے لیے اہم ہوگا۔

جھرپو پُھلپنگاٹی، نیپال (تھامسن رائٹرزفائونڈیشن) - کئی سالوں تک دیپا نیوار اور اُس کے پڑوسی پر اُن کا ذریعہ معاش اور یہاں 

تک کہ اُن کی جانیں کبھی بھی کوشی بھوٹی کوشی ندی میں فلڈ آنے سے بہے جانے کا خطرہ اُن کے سر پر ہمیشہ منڈلاتہ رہا۔ 

نیوار اور اُسے کے پڑوسی نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو سے تقریبا 112کلومیٹر شمال مشرق میں بھوٹی کوشی ندی کے قریب

 جھرپو پُھلپنگاٹی گاوں میں رہتے ہیں۔ اس ندی کو ہمیشہ فلڈ جیسے خطرے کا سامنہ ہے، جس کی نتیجے میں زرعی زمینوں پر کھڑی فصلیں، مال مویشی کو فلڈ کےساتھہ بہے جانے کے ساتھہ ساتھہ وہاں بسنے والے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

گذشتہ 32 سالوں میں نیوار کی تقریبا ڈھائی ایکڑپر دھان اور مکئی کی فصلوں کو کئی مرتبہ اس ندی میں فلڈ آنے سے نقصان ہوا 

.ہے۔ 

 

اس ندی کے گہرے سرمئی رنگ والے پانی کو دیکھتے ہوئے، جو چائنہ کی تبت آٹونامس ریجن سے نیپال کی طرف بہتی ہے، اب بھی سیلابوں کی وجہ سے ہونے والی تباہیاں اس کے ذھن میں تازہ ہیں۔

 

".دیپا نیوارکہتی ہیں، "جب بھی اس ندی میں سیلاب آیا ہے، تباہی ئی تباہی لایا ہے

مگر اب جب سے اُسے کے علاقے میں ارلی فلڈ وارننگ سسٹم نصب کیا گیا ہے،  وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لئے تحفظ کا ایک احساس محسوس کرتی ہیں۔

 

گلیشیل لیک کے ٹوٹنے کا خطرہ

اُن علاقوں کو، جہاں سے بھوٹی کوشی ندی بہتی ہے، شدید اور اچانک سے آنے والے سیلابوں سے بڑا خطراہ ہے، جس کی وجہ اچانک سے ہونے والی تیز بارشیں ہیں۔ اس کے ساتھہ ساتھہ گلیشیل لیک آئوٹبرٹ فلڈس یا گلاف سے بھی اس ندی کو خطرہ ہے۔ گلاف گلیشیئر ریجن میں برف کے بنے قدرتی ڈیم کے اچانک پھٹنے سے آتے ہیں، جن کے واقعات میں درجہ حرارت کے بڑھنے سے  تیزی آئی ہے۔ 

 

انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ مائونٹین ڈوولپمنٹ سینٹر (ایسیموڈ)کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، بھوٹی کوشی رور بیسن 3،400 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جہاں پر تقریباً 150 گلیشیئرس موجود ہیں۔ اس علاقے میں موجود 139 گلیشیئل لیک  ، جو 16 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، میں سے 59 گلیشیئر لیکس پھٹنے کے دھانے پر ہیں جس سے نیپا ل میں بھوٹی کوشی کے علاقے میں بڑی تباہی آسکتی ہے۔ 

 

ایسیموڈ کے گلیشیولاجسٹ پردیپ مُول کا کہنا ہے کہ 1981 میں اس ندی میں آنے والے گلیشیئل لیک آئوٹبرسٹ فلڈ(گلاف) کی وجہ سے کئی لوگ مرگئے تھی اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔  آرانیکوہائی وے کے ساتھ بنی ہوئی کئی پُلیں بھی  بہہ گئی تھی اور کئی دیہاتوں میں فصلوں اور مال مویشیوں کو بھی گہر ا نقصان پہنچا تھا۔

 

2010 تک ارلی فلڈ وارننگ سسٹم کے نہ آنے سے  فلڈ کس بھی وقت کسی بھی گاوں کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ کیونکہ  بھوٹی کوشی ندے کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا کہ اچانک آنے والے سیلابوں سے اپنی جانوں کو بچا سکتے۔

 

39 سالہ نیوار نے  تھامسن رائٹرزفائونڈیشن کو بتایا کہ، " اس ارلی فلڈ وارننگ سسٹم کے آنے سے ، ہم سیلاب کےساتھ بہہ جانے کے خطرے کے سائے میں رہتے تھے۔"

یہ ارلی فلڈ وارننگ سسٹم بھوٹی کوشی پاور کمپنی نے 2010 کے شروعات میں جھرپو پُھلپنگاٹی گاوں سے تقریباً 6 کلومیٹر نیپال چائنہ فرینڈشپ پُل کے قریب لگایا تھا جو  فلڈ کے 5 سے 8 منٹ پہلے فلڈ وارننگ سائرن بجاسکتا ہے تاکہ اُس گاوں میں موجود لوگ اوپر والے علاقوں کی طرف چلیں جائیں۔

 

اس پاور کمپنی جو جھرپو پُھلپنگاٹی گاوں میں واقع ہے، کے مینٹیننس مینیجر جانک راج پانت کا کہنا ہے کہ یہ بھوٹی کوشی ندی بے ترتیب اور شدید بہاو کی زد میں ہے خاص کر مون سون کے موسم میں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پاور کمپنی نے یہ ارلی وارننگ سسٹم اس گاوں میں نصب کیا ہے تاکہ سندھوپالان چوک ، جہاں پر جھرپو پُھلپنگاٹی گاوں بھی واقع ہے،کے لوگوں کی جانوں اور مال کو نقصان سے بچایا جاسکے۔

 

5 سے 8 منٹ کی سیلابی وارننگ

جانک راج پانت  نے مزید کہا کہ یہ ارلی فلڈ وارننگ سسٹم 5 سے 8 منٹ فلڈ کے آنے سے پہلے کی وارننگ دے سکتا ہے، جس کی مدد سے کم از کم جانوں کے ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

 

اس سسٹم کے پانچ سنسر  نیپال چائنہ فرینڈشپ پُل کے قریب  جو بھوٹی کوشی پاور کمپنی ، جو جھرپو پُھلپنگاٹی گاوں میں واقع ہے،  سے تقریباً 6 کلو میٹر شمال  میں لگائے گئے ہیں۔

 

 پانت نے  تھامسن رائٹرزفائونڈیشن  کو بتایا کہ جب بھی بھوٹی کوشی ندی میں پانی کا بہاو خطرے کی حد کو پہنچتا ہے، یہ سیسرز ایکٹیویٹ ہو جاتے ہیں اور پاور کمپنی کے پاس لگے سائرن کو بجادیتے ہیں، جس کی مدد سے  8-5 منٹوں کے اندر  سندھوپالان کے 79 ضلعوں کے لوگ جان بچانے کے لیے اور پہاڑی علاقوں کی طرو منتقل ہونا پڑتا ہے۔

 

اس ضلع کے مختلف گاوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ارلی فلڈ وارننگ سسٹم کی وجہ سے ان کے درمیا ن احسساس تحفظ پیداہوا ہے مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وارننگ ٹائم کے دورانیے کو مزید بڑھانہ چاہیئے۔

 

روربیسن کے ماہر جویا دیپ گُپتا نے کہا ہے کے ارلی فلڈ وارننگ سسٹم سے جُڑے سنسرز کی تعداد میں مزید اضافہ ہونا چاہیے تاکہ اس ندے کے  ساتھ ساتھ مزید ضلعوں کے لوگوں کو فلڈ کی وجہ سے آنے والی تباہی سے بچایا جاسکے ، اور یہ سنسرز اُن علاقوں میں بھی لگانے کی ضرورت ہے جہاں پر گلیشیئل لیکس موجود ہیں۔

 

بھوٹی کوشی پاور کمپنی کے مینٹیننس مینیجر جانک راج پانت نے کہا کہ ہم نے ارلی فلڈ وارننگ سسٹم کو مختلف ضلوں، جو اس ندی کے ڈائون اسٹریم والے علاقوں میں آتے ہیں، میں بھی  متعارف کرانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم نے  اس وارننگ سسٹم لگانے کے کام میں مہارت اوردلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے ٹینڈرز بھی منگوائیں ہیں۔امید ہے کہ اس سال کے آخر تک 

اس ارلی فلڈ وارننگ سسٹم کو بھوٹی کوشی ندے کے گذرنے والے کئی علاقوں میں نصب کرچُکے ہونگے۔

 

.سلیم شیخ اور صغرا تنیو  اسلام آباد میں نامہ نگار برائے کلائمٹ چینج اور ترقیاتی سائنس  ہیں

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.