سیلاب سے متاثرہ پاکستان میں رلیف آپریشن کے غیر مناسب اقدامات

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Wednesday, 21 August 2013 10:07 GMT
Pakistan's disaster management authorities are struggling to assist people affected by monsoon floods, as more rain is forecast for late August

سیالکوٹ، پاکستان (تھامسن رائٹرز فائونڈیشن) ۔ سلیمہ بیبی کی موت گھر کی چھت گرنے کی وجہ سے واقع ہوئی۔ یہ واقعہ پاکستان کے شمال مشرق میں پنجاب صوبے کے نواحی گاوں تالوانڈی میں آگست کے دوران شدید بارشوں کی وجہ سے آیا۔

 

چودہ آگست کو پیش آنے والے اس واقعے میں اسکے تین بچے اور خاوند شدید زخمی ہوئے۔

 

سلیمہ بیبی کے خاوند مزمل رضا نے کہا کہ یہ چھت گرنے والا واقعہ پانچ گھنٹے سے مسلسل بارشوں کی وجہ سے ہوا۔ چھت اس وقت ہمارے اوپر اس وقت گری جب ہم گھر کے ایک کمرے میں چارپائی پر بیٹھے ہوِئے تھے۔

 

اسلام آباد سے تقریباً۱۹۲ کلومیٹر پر واقع سیالکوٹ ضلع ساون کی بارشوں کے وجہ سے پنجاب کا سب سے زیادہ متاثر ترین علاقہ قرار دیا گیا ہے جہاں سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ 

 

پنجاب پرووینشل ڈزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ۲۰ آگست تک سیالکوٹ ضلع کے تقریباً د۲۰۰ گاوں زیرآب آگئے ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک انفرااسٹرکچر کو بھی کافی نقصان ہواہے۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی دھان، کپاس اور سبزیوں کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ 

 

انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش سے اُبھرنے والی چناب ندی جو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی پاکسان میں داخل ہوکر پنجاب کے ضلع ملتان میں انڈس رور میں گرتی ہے۔

 

فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین اسجد امتیاز علی کا کہنا ہے کہ تیس سالوں کے بعد پہلی بار چناب ندی اپنے کناروں تک بہ رہی ہے، جس میں آگست کے دوران اونچے درجے کا سیلاب رہا۔

 

چناب ندی میں سیلابی صورتحال ہونے کی وجہ سے، ندی کے کئی بند ٹوٹ گئے، جس سے کافی تباہی آئی۔

 

 اسجد امتیاز علی کا کہنا ہے کہ چناب ندی میں سیلابی صورتحال جو غیرمعمولی تھی اس کی وجہ چودہ آگست کو آنڈیا کی طرف سے چھوڑاجانے والا سیلابی ریا تھا جو پاکستان کی حدود میں بہتی ہوئی چناب ندی میں چھوڑا گیا اور وہ بھی بغیر کسی اطلاع کے جو انڈس واٹرٹریٹی کے تحت لازمی ہے اور یہ پاکستانی حکام کے لئے باعث تشویش تھا۔ 

 

سیلابی خطرات

 

اکنامک سروے آف پاکستان برائے ۲۰۱۱-۱۲ کے مطابق، گذشتہ تین سیلابوں کی وجہ سے پاکستان کو تقریباً سولہ بلین ڈالرز کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کی وجہ سے تقریباً ۴۰۰۰ لوگ مارگئے ہیں ، ہزاروں زخمی ہوئے ہیں اور لاکھوں متاثر اور بے گھر ہوئے ہیں۔

 

اس سال بھی انڈس رور اور اسے کی ٹربیوٹرز جیسے چناب، جہلم، راوی، بیاس اور سطلج میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کو اب تک کافی تباہی سے دوچار ہونا پڑاہے۔

 

نیشنل ڈزاسٹرمینجمینٹ اتھارٹی کی ۲۴ آگست تک کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ سیلابوں کی وجہ سے ۱۷۰ لوگ مرگئے ہیں، ۸۵۵ لوگ زخمی، ۱۴لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ۵۴۳۹ سے زائد دیہات زیرآب آگئے ہیں۔

 

تقریباً ۲۰،۴۷گھر مکمل طور پرتباہ  اور ۲۵۵۷۳ گھر جزوی طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور سترہ لاکھ سے  زائد ایکڑ پر دھان، کپاس، گنا، مکئی، مونگ پھلی، دالیں اور سبزیوں کے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

 

پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کائونسل کے چیئرمین افتخاراحمد کا کہنا ہے کہ اگر تباہ شدہ روڈ اور ریل نیٹورکس کی بحالی کا کام سیلابی پانی کے اترنے کے فوراً بعد شروع نیہں کیا گیا اور متاثرہ کسانوں کے لئے کوئی بحالی پیکیچ شروع نیہں کیا گیا تو تو ملک کو شدید غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

 

 

پھیلتی ہوئی تباہی اور منڈلاتا ہوئے خطرات

 

پاکستان فلڈ کمیشن کے چیئرمین امیتاز علی نے آگست کے آخری ہفتے اور ستمبر کے پہلے ہفتے کے دوران ہونے والی بارشوں کے مطلق کہا کہ یہ بارشی سلسلہ مون سون بارشون کا آخری مگر شدید ترین ہوگا، جس سے کافی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان بارشون کی وجہ سے سیلابی صورتحال کافی پریشان کن ہوسکتی ہے کیوں کہ انڈس رور سمیت ملک کی تمام ندیوں میں سیلابی صورتحال ہے۔

 

تاہم موجودہ سیلابی ریلا سندھ صوبے کی طرف گامزن ہے، جہاں پر اُس نے پہلے ہی کافی تباہی مچادی ہے۔

 

سندھ حکومت کے ترجمان شرجیل میمن نے کہا ہے کہ صوبے کے تین بیراجوں پر ایمرجسنسی نافذکردی گئی ہے، تاکہ گڈو، سکر اور کوٹری بیراجوں کے مقاموں پر سیلابی صورتحال سے پیداہونے والے خطرے سے بروقت نمٹا جاسکے۔ اس کے علاوہ، سندھ میں پروونشل ڈزاسٹرمینجمینٹ اتھارٹی، سندھ ایریگیشن اور ڈرینیج اتھارٹی اور سندھ ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کو بھی الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جاسکے۔

 

مایوس متاثرین

 

 ڈزاسٹرمینجمینٹ اتھارٹیز کی جانب سے ناکافی رلیف انتظامات پر ہیومنیٹریئن تنظیموں اور  ڈزاسٹرمینجمینٹ کے ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔

 

این ڈی ایم اے کے حکام کہتے ہیں کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مناسب رلیف انتظامات کیے گئے ہیں مگر ایسے دعوں کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ یہ حکام کہتے ہیں کہ ساٹھ رلیف کیمپ لگائے گئے ہیں اور ۲۸۰۰ لوگوں کو وہان پر ٹھرایا گیا ہے۔ تقریباً ۲۳،۰۰۰ خیمے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔

 

مگر ماہر ڈزاسٹرمینجمینٹ  ستار زنگیجو کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں۔

 

ان کا کہنا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان صوبوں میں۹۰ فیصد متاثرہ لوگوں تک ریلف ایئڈ نیہں پہنچا ہے اور وہ اپنی مدد آپ متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کررہے ہیں۔

 

ستار نے مزید کہا کہ متاثرین کے چہروں پر مایوسی کی عکاسے کررہے ہیں، کیوں کے ان کو صاف پانی، ادویات اور خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

 

مگررلیف آپریشن کے شروع نہ کرنے کے پیچھے نوکر شاہی کی سست روی ہو سکتی ہے۔

 

۱۷ آگست کو، وفاقی وزیربرائے پلاننگ اور ڈوولپمنٹ احسن اقبال نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رلیف آپریشن کرنے کے لیے سولہ بلین روپے نیشنل ڈزاسٹر مینجمینٹ کو فورا درکار ہیں۔ 

 

احسن اقبال نے مزید کہا کہ وفاقی وزارت برائے مالیات کو فنڈز کو جاری کرنے کے لیے لکھا گیا ہے اور اس بات کی قوی امید ہے کہ یہ فنڈز جلد جاری ہوجائین گے اور رلیف آپریشن کو مزید تیز کیا جا سکے گا۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.