سولر ٹریفک سگنلز سڑکوں پر ٹریفک جام سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہورہے ہیں

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Wednesday, 4 September 2013 00:15 GMT

A solar-powered traffic signal installed at the Aabpara intersection in Islamabad is helping manage traffic congestation. THOMSON REUTERS FOUNDATION/Saleem Shaikh.

Image Caption and Rights Information
With worsening power outages leading to failed signals and traffic snarls, Islamabad is embracing solar panels to keep traffic moving

اسلام آباد، پاکستان (تھامسن رائٹرز فائونڈیشن) –  اسلام آباد کے مرکز میں واقع آبپارہ چوک پر نصف کیے گئے  سولر انرجی کی مدد سے چلنے والے ٹریفک سگنلز کی وجہ سے عبداللطیف کا کاروبار پھر سے ابھرنے لگا ہے۔

آبپارمارکیٹ میں لطیف کئی سالوں سے شو شاپ کا دکان چلاتے ہیں۔  مگر بجلی کی منقطع ہونے کی وجہ سے یہ ٹریفک سگنل کے بند ہونے سے اس آبپارہ مارکیٹ کے علاقے میں شدید ٹریفک جام ہوجاتا تھا جس کی وجہ سے لطیف کا کاروبار ٹُھپ ہونے لگاتھا ، جس سے وہ کافی پریشان تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ٹریفک جام کی وجہ سے آبپارہ مارکیٹ  میں خریداری کے لیے آنا ہی چھوڑ دیا تھا جس سے اس مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیا ں سرد ہونے لگی تھیں۔مگر جب سے یہ سولر انرجی کی مدد سے چلنے والا ٹریفک سنگل لگایا گیا ہے، علاقے میں ٹریفک جا م جیسے ختم ہی ہوگیا ہے اور کاروباری سرگرمیا ں دوبارہ بحال ہوگئی ہیں ۔

اسلام آباد کے تقریباً تمام سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹریفک جام ایک پیچدہ مسئلہ بن گیا ہے جسے سے گاڑیاں کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر پھنسی رہتی ہیں، جس کی خاص وجہ باربار بجلی کے منقطع ہونے کی وجہ ٹریفک سنگلز کے طویل مدت تک بند رہنا ہے۔

اسلام آباد میں کیپیٹل ڈوولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تجرباتی بنیادوں پر  مختلف اہم جگوں پر تین سولر انرجی کی مدد سے چلنے والے ٹریفک سگنلز  اس سال جون کے ماہ میں لگائے گئے ہیں۔

کیپیٹل ڈوولپمنٹ اتھارٹی کی انجینئرنگ  ونگ میں تعینات افسران کا کہنا ہے کہ اگر  موجودہ سولر انرجی کی مدد سے چلنے والے ٹریفک سگنلز سے متوقع نتائج حاصل ہوئے  تو سولر انرجی کی مدد سے چلنے والے ٹریفک سگنلز کی تعداد مزید بڑھائی جائے گی۔

پاکستان الٹرنیٹو انرجی ڈوولپمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر برائے انرجی افیئرز نوید حسن بُخاری کہتے ہیں کہ  بورڈ نے بھی 25 ٹریفک سگنلز لگانے کا ایک منصوبہ تیا ر کیا ہے جس پر جلد عملدرآمد ہوجائےگا۔

خوش آمدید تبدیلیاں

اب ان  سولر انرجی کی مدد سے چلنے والے ٹریفک سگنلز  کی وجہ رنجیدہ ٹریڈرز، ڈرائیورز، تھکے ہوئے ٹریفک وارڈنز خوش ہیں۔

آبپارہ چوک پر لگائے گئے سولر انرجی کی مدد سے چلنے والے ٹریفک سنگل کے نیچے کھڑے ہوئے 45 سالا  ٹریفک ورڈن بلال رضا کا کہنا ہے کہ  جب بجلی کے منقطع ہوتے ہی بجلی پر چلنے والے ٹریفک سگنلز  بند ہوجاتے ہیں تو یہ وارڈنز ہی ہیں جو کئ گھنٹوں تک ٹریفک جام کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں ، جو ٹریفک کے ساتھ لوگوں کے غم اور غصے کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مگر اب ان سولر انرجی کی مدد سے چلنے والے ٹریفک سنگلز  کی وجہ ایسے کئ مسائل حل ہوگئے ہیں۔

جیکوب جوزف جو اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں واقع جناح سُپر مارکیٹ میں  سمارٹ فون کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے سولر انرجی کی مدد سے چلنے والے ٹریفک سنگلز سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے اہم مددگار ثابت ہوسکتے ہیں ، خاص کر مصروف کمرشل علاقوں میں جہاں پر ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔

بجلی کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے دوچار پنجاب اور سندھ صوبے کی حکومتوں نے ایسے منصوبے تیار کیے ہیں جن کا خاص مقصد شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرکے اسٹریٹ لائٹس اور تریفک سگنلز کو روشن کیا جائے گا۔

حکومت پنجاب کی ٹریفک انجنئیرنگ ائنڈ ٹرانسپورٹ پلاننگ ایجنسی کے چیف انجنئیر سعید اختر نے  تھامسن رائٹرز فائونڈیشن کو فون پر بتایا کہ  تین مقامی فرمز کے ساتھ معاہدے طئے پائے ہیں جس کے تحت لاہور میں پانچ مختلف اسپاٹس، جہا ں ٹریفک جام سنجیدہ مسئلے بن گئے ہیں،  پر ٹریفک سگنلز کو شمسی توانائی کی مدد سے چلایا جائے گا۔

اس مقصد کے لئے  سولر پینل نصب کرنے کے اخراجات یہ پرائیوٹ فرمز ہی برداشت کریں گی جس کے عیوض حکومت پنجاب  ان فرمز کو کسی قیمت کے بغیر ان کو اپنی پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کے لیے سائن یا بل بورڈز  لگانے کی اجازت دے گی۔

اختر ان کا محکمہ سولر پاور پر چلنے والے ٹریفک سگنلز اور اسٹریٹ لائٹس  لاگانے میں دلچسپی رکھنے والی مختلف کمپنیوں سے رابطے میں ہے تاکہ شہر اور مضافاتی علاقوں میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ مل سکے اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران سے بھی نمٹاجاسکے۔

اب تک پاکستان میں کل سات میگاواٹ بجلی شمسی توانائی سے بنائی جاتی ہے۔ جب کہ ملائیشیا ٹیکنالاجی یونیورسٹی کے کیمیکل انجنئیرنگ شعمبے کے ایسوسیئٹ پروفیسر غلام رضا زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تقریباً تین ملین میگاواٹ بجلی شمسی توانائی سے بنا سکتا ہے۔

اتنی بڑی شمسی توانائی  کی موجودگی کو استعمال میں لانے کے لئے پاکستان کو چھوٹے اور درمیانے سائز متبادل توانائی منصوبے بنانا ہونگے اور بنیادی کمپوننٹس کی مقامی سطح پر بنانے کے چھوٹی صنعتوں کے لگانے کے لئے مراعات دینا ہونگی۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.