پاکستان کے تمر کے جنگلات کی بحالی کے اقدامات پرماحولیاتی ماہرین کے اعتراضات

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Tuesday, 3 December 2013 13:30 GMT

Village volunteers plant mangrove seedlings at Kharo Chan, a coastal town in the Thatta district of Pakistan’s Indus Delta, in June 2013. THOMSON REUTERS FOUNDATION/Saleem Shaikh.

Image Caption and Rights Information
Country breaks the record for one-day mangrove planting, but will they survive?

کھاروچھان، پاکستان (تھامسن رائٹرزفائونڈیشن) اس سال جون کے ماہ میں ایک دن کی روشنی میں البتہ پاکستان رکارڈ توڑتمرکی نرسریز لگانے میں کامیاب ہوا، ماحولیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ انہیں اس بات پر کوئی یقین نہیں کہ پاکستان ان نئے لگائے گئے پودوں کی مناسب دیکھ بھال کرسکے گا۔

 

۲۲جون کو، پاکستان نے ایک دن کی روشنی میں 847,257 تمر کے پودے لگاکرگنیز ورلڈ رکارڈ توڑ دیا۔ 2010 میں انڈیا نے 611,000 تمر کے پودے لگاکرگنیز ورلڈ رکارڈ بنایا تھا۔

 

سندھ صوبے کے محکمہ جنگلات نے 300 کمیونٹی رضاکرروں کی مدد سے ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی تعلقہ کھاروچھان تمر کے پودے لگائے تھے۔ رکارڈ پودے لگانے والی سرگرمی ایشین ڈوولپمنٹ بینک کی مالی مدد سےچلنے والے سندھ کوسٹل کمیونٹی ڈوولپمنٹ منصوبے کے تحت منعقد کی گئی تھی۔

 

اس سرگرمی کا مقصد پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ممکنہ سمندری طوفانون، سمندری چڑھاو، اور زمینی کٹاوں جیسے خطرات سے نمٹنہ ہے۔ 

 

مگر ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کے ان تمر کے پودوں کے لگانے کے لیے چنا گیا وقت غیر مناسب تھا، کیوں کہ جون اور جولائے والے مہینوں میں سمندرکافی اوپر آتا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے بھی گنیزورلڈ رکارڈ توڑاگیا تھا مگرغیر مناسب وقت چننے کی وجہ سے تقریباً 70فیصد پودے سمندر میں بہہ گئے تھے۔ 

 

پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں واقع تمر کے جنگلات کو ٹمبر مافیا، بلاروک ٹوک مویشی جانوروں، سمندری چڑھاو اور دریائے سندھ کے کم ہوتے ہوئے بھاو کی وجہ سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔

 

کھارچھان کے رہائشی یوسف کاتیار کے لیے تمر کی رکارڈ پلانٹیشن خوشی کا باعث ہے۔ 81 سالہ مچھیرانے اس زمین، جو اب سمندر کے نیچے ہے، کی طرف اشارہ کرے ہوئے کہا کہ تقریبا 20 سال پہلے کئی سیکڑوں پر پھیلے ہوئی زرخیز زمین پر تمر کے گھنے جنگلات ہوتے تھے مگر سمندری چڑھاونے ان کو اپنے اندے ہڑپ کرلیا ہے۔ اور اب کھاروچھان سمیت کئی قریبی گاوں سمندری طوفانوں کی زد میں ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ تاہم کسی بھی سطح پر تمر کے اتنے بڑے پیمانے پر پلانٹیشن باعث اطمینان ہے، جس سے ہماری زندگی اور روزگار محفوظ ہو سکتے ہیں۔

 

ورلڈ والئلڈلائف فنڈ فارنیچر - پاکستان کی 2012 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، کھاروچھان میں ہر سال تقریباً 61 میٹر زرخیز زمین سمندر ہڑپ کرجاتا ہے۔ اور گذشتہ دس سے پندرہ سالوں کے دوران اس تعلقے کی 117,823 ہیکٹرز زمین سمندر ہڑپ کرگیا ہے۔

 

گذشتہ تیس سالوں کے دوران تقریباً تین-چوتھائی تمر کے جنگلات ختم ہوگئے ہیں، جس سے ملک کے سمندری علاقوں اور وہا پر بسنے والے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے لاحق ہوگئے ہیں۔

 

1980 میں تمر کے جنگلات 250,000 سے 283,000 تک ہیکٹرز پر پہیلے ہوئے تھے۔ جو اب 80,000 ہیکٹرز پر رہ گئے ہیں۔

 

آئی یو سی این کے طاہر قریشی نے کہا ہے کہ یہاں تک کہ تمرکی رکارڈ پلانٹیشن بھی بے فائدہ ہوسکتی ہے اگر تمر کے موجودہ جنگلات کی کٹائی کو نہیں روکا گیا۔

 

غیرمناسب وقت

 

پاکستان فشرفوک کے ترجمان سامی میمن نے تمر کے رکارڈ پلانٹیشن کے لیے منتخب کیے گئے وقت پر شدید اعتراضات ہیں۔

 

وہ کہتے ہیں کہ جون اور جولائی کے مہینوں میں سمندر کافی اوپر آجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان مہینوں کو تمر کے پودے لگانے کے لیے منتخب کرنا خوش آئین فیصلہ نیہں ہے۔ کیونکہ بہت سارے پودے سمندری پانی کے چڑھاو کی وجہ سے بہہ گئے ہیں اور باقی پودے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہونے کے دھانے پر ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.