پاکستان پن بجلی کی پیداور کو بڑھانے کے لیے کوشاں

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Monday, 17 February 2014 14:45 GMT

A man bathes his horse in Indus river waters in Gilgit, Pakistan, on September 20, 2012. REUTERS/Akhtar Soomro

Image Caption and Rights Information
Faced with an economy slammed by power outages, the country opens the gates to more than a dozen new hydropower plants – but what happens to the displaced remains a question

 

اسلام آباد، پاکستان [تھامسن رائٹرزفائونڈیشن] - پاکستان کی موجودہ نوازشریف حکومت نے پن بجلی کی پیداور بڑھانے کے لیے کئی منصوبے شروع کردیے ہیں، جس سے امید پیداہوگئی ہے کے انرجی بحران میں جکڑے ہوئے ملک کی عوام کو ان منصوبوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سستی بجلی سے فائدہ ہوگا۔ 

 

وفاقی وزارت واٹراینڈ پاور کے سینئر افسران کے مطابق، 10اور 1000 میگاواٹ کے درمیان والے پن بجلی کے کُل 13000 میگاواٹ کے مختلف منصوبے شروع کردیے ہیں، جو 2018 کے آخر تک مکمل کردیےجائیں گے۔ 

 

ماہرین توانائی کہتے ہیں کہ ان منصوبوں کی جلد تکمیل پاکستان کی کمزور معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم ان منصوبوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے لوگوں کے لیے موئثرریسٹلمینٹ پالیسی کی منظوری ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے اہم ہے۔ جو مستقبل قریب میں ممکن ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

 

اس وقت پاکستان میں تقریبا 14000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے، جب کہ اُس کی مانگ 18000 میگاواٹ ہے، جو موسم گرما کے مہینوں میں، جب لوگ ایرکنڈیشنر چلاتے ہیں، 20000 تک پہنچ جاتی ہے۔

 

تاہم بجلی کی پیداور اور مانگ میں بڑھتے ہوئے فرق کی وجہ سے پاکستان کی معشیت کو شدید نقصان ہورہاہے۔

 

پاکستان اسٹیٹ بَنک کے سابقہ گورنر عشرت حسین نے کہا کہ بجلی کے شدید بحران سے ملک کے صنعتی شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں صنعتیں بند ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں۔    

 

کچھ ماہ پہلےراولپنڈی شہر میں واقع ایک گارمینٹ فیکٹری میں کام کرنے والی زلیخاں فاطمہ کواس لیے روزگار ہونا پڑا کیونکہ فیکٹری مالک کے لیے ہوگیا تھا کی وہ تب بھی زلیخاں جیسے کِئی مزدورں کو تنخواہ پر جاری رکھتا جب دن میں 16 گھنٹے بجلی مہیا نہ ہو۔

 

زلیخاں نے الرٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ 140 فیکٹری ورکرز میں ایک تھیں جن کو فیکٹری سے بےروزگار ہونا پڑا۔ اب وہ بچوں کو ٹیشن دیتیں ہیں اور اس سے ہونے والی آمدنی سے اپنا گھر کے اخراجات پورے کرتی ہے۔

 

مگر ان کو امید ہے کہ پن بجلی کے نئے منصوبوں سے پاکستان کو بجلی کے بحران سے نکالاجائے گا تاکہ ان جیسے لاکھوں لوگوں کو ان کا روزگار واپس مل سکے۔

 

 

منصوبوں کی قسمیں

 

اس سال جنوری میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے شمالی علاقوں میں بلین ڈالرز مالیت کے 5800 میگاواٹ کے  مختلف پن بجلی سے متعلق پانچ منصوبے شروع کیے ہیں۔

 

یہ منصوبے آسٹریا، چائنہ، جرمنی، فرانس، ایشیئن ڈوولپمنٹ بئنک، ورلڈ بئنک، انٹرنیشنل فائننشل کارپوریشن اور یوایس ایڈ کے مالی و تکنیکی تعاون سے شروع کیے گئے ہیں۔

 

ایکسپورٹ امپورٹ بئنک آف چائنا نے مظفرآباد میں نیلم ندی پر تعمیر ہونے والے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کے لیے 17 ملین ڈالرز کی پہلی قسط جاری کردی ہے۔ اس منصوبے کے لیے بئنک نے اس منصوبے کے لیے، جو 2016 میں مکمل ہوگا، کل 448 ملین ڈالرز دینے کا واعدہ کیا ہے جو مختلف قسطوں کی صورت میں جاری کیا جائے گا۔

 

پاکستان میں اس وقت پن بجلی ملک میں بننے والی کل بجلی کا 11 فیصد ہے۔ 88 فیصد بجلی قدرتی گئس، تیل اور کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔

 

حکومت پاکستان کے ترجمان پروز رشید نے الرٹنیٹ کلائمٹ کو فون پر بتایا کہ پن بجلی کی پیداوار کو بڑاھانے پر اس لیے زور دیا جارہا ہے کیونکہ وہ ماحول دوست اور انتہائی سستی ہے، جو موجودہ حکومت کی انرجی پالیسی کا مرکزی مقصد ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ کوئلے اور تیل سے پننے والی بجلی غیر پائیداور اور ماحول کے لیے تباہ کن ہے-

 

پاکستان کی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چئرمین احسن اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان کے شمالی علاقے میں مختلف دریاوں اور نہروں سے تقریبا ایک لاکھہ میگاواٹ پن بجلی پیداکی جاسکتی ہے۔

 

ماضی کی حکومتوں کی عدم دلچسپی، فنڈز کی کمی اور ملک میں غیراہم سکیورٹی ماحول کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں پن بجلی کے منصوبے شروع نہیں ہوسکیں ہیں۔

 

مگر جیسے جیسے ملک کے شمالی علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہورہی ہے، ورلڈ بئنک، ایشئن ڈوولپمنٹ بئنک اور یورپین ملکوں کی پن بجلی کے منصوبوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے، اور کئی منصوبے پہلے ہی شروع کیے گئے ہیں۔

 

وفاقی اکانومک افئیرز ڈوژن کے جوائنٹ سیکریٹری علی رضابُھٹا کہتے ہیں کہ چارسالہ 122 میگاواٹ کییل خاور ہائڈروپاور منصوبے کے لیے فرینچ ڈوولپمنٹ ایجنسی نے 50 ملین یورو اور جرمن مینسٹری فار اکانومک کوآپریشن ایئڈڈوولپمنٹ نے  20 ملین یورو دینے کے لیے رضامند ہوگئے ہیں، جو گلگت بلتستان کے اسکردو شہر میں شروع کیا جارہا ہے۔ 

 

یورپین انوسٹمنت بئنک نے بھی اسی منصوبے کے لیے اس سال مارچ کے آخر تک 100 ملین یورو دینے پر تیار ہوگیا ہے

 

گلگت بلتستان کے وزیراعلی نے بھی 16 پن بجلی کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے جس کی تعمیر کی کل لاگت 122 ملین ڈالرز ہے۔ 

 

اس سال فروری میں، پاکستان کی وفاقی سنٹرل ڈوولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے چار ہزار تین سو میگاوٹ کے داسو ہائدروپاور منصوبے کی منظوری دے دی ہےجو ورلڈ بئنک کے 700 ملین ڈالرز کی مالی مدد سے تعمیر کیا جائے گا۔ 

 

وفاقی وزارت کے وزیر ریاست برائے پانی و بجلی، عابد شیر علی کہتے ہیں کہ پاکستان مزید فنڈز کی تلاش جاری رکھے ہوا ہے، کیونکہ موجودہ حکومت سال 2030 تک چالیس ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

 

سلیم شیغ اور صغرہ تنیو اسلام آباد میں نمائندگان برائے ڈوولپمنت اور کلائمٹ چینج ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.