پاکستان صرف 30 دن تک پانی ذخیرہ کرسکتا ہے - تحقیقی ماہرین

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Tuesday, 8 April 2014 16:31 GMT

A young girl walks over a sand-bag pavement in Johi town in Pakistan’s Sindh province, which was hit by flooding in 2010. THOMSON REUTERS FOUNDATION/Saleem Shaikh

Image Caption and Rights Information
Inadequate storage of water is putting crops, industry and lives at risk, water experts say

 

اسلام آباد، پاکستان [تھامسن رائٹرزفائونڈیشن] پانی، زراعت اور صنعت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیرمناسب اور ناکافی منصوبا بندی کی وجہ سے پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے

 میں پیداہ ہونے والے پانی سے منسلک خطرات میں شدت آرہی ہے، جس سے ملک کی زراعت، صنعت اور پن بجلی جیسے شعبوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

 

اس سال مارچ میں ہونے والے سالانہ 'پاکستان واٹر سمٹ' کے شرکا۶ سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ پاکستان پانی کے زخائر بڑہانے کے لیے ملک میں نئے آبی زخائر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے آبی وسائل کے بہتراور موثر استعمال کے لیے ہر شعبے سے وابسطہ لوگوں میں آگائی پیداکرنا ناگزیر ہوگیا ہے تاکہ ہر سطح پر پانی کے ضیا۶ کو کم کیا جاسکے۔

 

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایسی زرعی اجناس متعارف کرانے کی ضرورت ہے جن کو کم سے کم پانی درکار ہو اور خوشکسالی کو برداشت کرسکیں۔

 

اس واٹر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے آبی زخائر پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ مون سون کے موسم شدید اور آگے پیچھے ہورہے ہیں اور صحرائی علاقے اور خوشک ہورہے ہیں۔ 

 

گذشتہ سال دسمبر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ورلڈ رسورسز انسٹیٹیوٹ نے پاکستان کی ین 36 ممالک میں رینکنگ کی ہے جو پانی کی شدید قلت سے دوچارہیں۔

 

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ہر سال دریائے سندھ میں برساتوں اور شمالی علاقوں میں برف کے پگھلنے سے 115 ملین ایکر فیٹ مہیا ہونے والے ہونے والے پانی کا 40 فیصد ذخیرہ ہونا چاہیے۔ اور اس سے پاکستان اپنی صرف 30 دن کی آبی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس پڑوسی ملک انڈیا میں 200 دن کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ 

 

انہوں نے کہا کہ زراعت، توانائی اور صنعتی شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین منصوبہ بندی کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کے وہ پاکستان میں آبی ذخائر کی کیپیسٹی 40 دنوں سے آگے لے کے جائیں۔

 

وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کے وہ پاکستان میں آبی ذخائر کے نئے منصوبوں کی تعمیر کے لیے، جنس سے سستی اور ماحول دوست بجلی بھی بنائی جاسکتی ہے، فنڈنگ کے نئے ذرائع تلاش کرے۔

 

پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے کنٹری ڈائریکٹر، پرویز امیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے وجہ سے دریائے سندھ کے بھاوء میں کمی آتی ہے تو پن بجلی کی موجودہ پیداور پر برے اثرات مرتب ہونگے، جس سے ملک میں توانائی بحران مزید شدت پکڑسکتا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ماہرین موسمیات نے اس بات کی پیشنگوئی کی ہے کہ درجہ حرارت بڑہنے سے شمالی علاقہ جات میں برف تیزی سے پگھلے گی اور بارشیں شدید ہوسکتی ہیں جس سے دریائے سندھ میں سیلاب آنے سے بڑے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور زراعت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 

اقوام متحدہ کی ورلڈ واٹر ڈوولپمنٹ رپورٹ کے مطابق، پاکستان ان 9 ممالک میں سے ایک ہے جو سیلابی تباہیوں سے مسلسل متاثر ہورہا ہے۔

 

نیپال کے دارالحکومت کٹمنڈو میں واقع انٹرنیشنل سینٹر فارانٹیگریٹڈ مائونٹین ڈوولپمنٹ  کے ماہر موسمیات اروں شرما کہتے ہیں کہ جنوبی ممالک سیلابی صورتحال، گلیشیئل لیک کا پھٹنا اور خوشکسالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ 

 

ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک میں سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کو دوسرے شعبوں کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس مسئلے کو  دیکھا جارہا ہے۔ کب کہ موسمیاتی تبدیلی کے ہر شعبے جیسے زراعت، صنعت، پانی اور صحت پر منفی اثرات پڑرہے ہیں۔

 

انہوں نے ان ممالک کو تجویز دی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی آبی تباہیوں سے نمٹنے کے لیے زراعت، پانی، صحت اور صنعت کے مطلق پائیدار منصوبہ بندی پر زور دینا چاہیے۔

 

ارون شرما نے تجویز دی کے ان موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہیوں سے سختی سے نمٹنے کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک کو آپس میں سائنس و ٹیکنالاجی، ارلی وارننگ سسٹم، گلیشیئر کے پھٹنے اور ممکنہ سیلابوں کے مطلق روابط بڑھانے چاہیے۔

 

لیڈ پاکستان کے سربراہ توقیر علی شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دوسرے تمام ممالک کے پالیسی سازوں پانی، خوراک اور توانائی جیسے شعبوں کی ایک دوسرے پر انحصار کو سمجھنا پڑے گا تاکہ ان شعبوں کو پائیدار بنانے کے لیے بہتر پالیسیاں بنائی جاسکیں۔

 

سلیم شیخ اور صغرہ تنیو اسلام آباد میں الرٹ نیٹ کلائمیٹ کے لیے پاکستان میں نامہ نگار برائے موسمیاتی تبدیلی ہیں۔ 

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.