توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی کوئلے سے بجلی بنانےکے منصوبوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Wednesday, 11 June 2014 10:30 GMT

Men sort coal at a wholesale shop to sell in the market in Rawalpindi, Pakistan, on May 20, 2013. REUTERS/Faisal Mahmood

Image Caption and Rights Information
Faced with chronic power cuts, big oil import bills and worse summer heat, Pakistan turns to coal - and higher emissions

 

اسلام آباد، پاکستان [تھامسن رائٹرز فائونڈیشن] پاکستان نے 15 نئے کوئلے پر چلنے والے بجلی کے پلانٹ لگانے کے منصوبے تیار کیے ہیں، جس سے ملک کی موجودہ بجلی کی پیداوار دوگنی ہوجائے گی۔ تاہم ماحولیاتی ماہرین نے ان منصوبوں کے عمل میں آنے سے ماحولیات اور لوگوں کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

موجودہ حکومتِ پاکستان نے ان کوئلے کی مدد سے چلنے والے بجلی کے پلانٹ سے 15000 میگاواٹ بجلی بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے، جس پر تیزی سے عمل ہورہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ سارے منصوبے 2018 تک مکمل ہوجائیں گے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کافی حد تک کمی ہوگائے گی۔

 

اسلام آباد میں واقع غیرسرکاری تنظیم سسٹین ایبل ڈوولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ماہرِ پانی و توانائی، ارشد عباسی، کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے دیہات میں 15 گھنٹے سے زائد اور شہری علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے روزانہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔

 

ملک میں بجلی کا بحران موسمِ گرما کے مہینوں میں شدت اختیار کرجاتا ہے جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے بڑجاتا ہے اور لوگ جسم جھلسانے والی گرمی سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشنر اور روم کولر چلاتے ہیں۔

 

مگر ماحولیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ نئے گوئلے کے بجلی گھروں کی مدد سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کم واقع ہوگی تاہم ان سے پیدا ہونے والے کالے دھوئے سے ماحولیات اورلوگوں کی صحت پر بہت برے اثرات مرتب ہونگے اور سانوں کی بیماریوں میں شدت آئے گی۔

 

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کوئلہ تمام توانائی کے ذرائع سے زیادہ آلودگی پیدا کرتا ہے اور کوئلے سے بجلی بنانے کے نتیجے میں پاکستان کے کاربن فوٹ پرنٹ میں بھی اضافہ ہوگا، جو اس وقت دنیا کا صفر عشاریہ آٹھہ ہے۔

 

ماحولیات کے سلسلے میں لاپرواہی

 

سابقہ وفاقی وزیر برائے ماحولیات، حمیدﷲ جان آفریدی کہتے ہیں کہ متبادل توانائی کے ملک میں موجود ذرائع، جیسے پانی، سورج اور ہوا جو سستے اور ماحول دوست ہیں، کے بجائے کوئلے سے بجلی بنانے کو ترجیح دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ حکومت ماحولیاتی تحفظ  اور لوگوں کی صحت کے سلسلے میں لاپروا ہے۔

 

پاکستان میں اس وقت 16000 میگاواٹ کی ضروت ہے، جو شدید گرمی کے مہینوں میں 20000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے، مگر مختلف ذرائع سے صرف 13000 میگاواٹ بجلی پیداہورہی ہے۔

 

لمبے دورانیئے کی لوڈشیڈنگ کے خلاف لوگ ملک کے بہشتر علاقون میں سراپا احتجاج ہیں اور لوگوں کے غم و غصے سے بچنے کے لیے، وزیرِاعظم نواز شریف نے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں۔

 

اس سال 31 جنوری کو، نواز شریف نے 1600 ملین ڈالر کی لاگت سےسندھ کے جنوبی صحرائی ضلع تھرپارکر میں بننے والے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کا افتتاح کیا، جس کی ماہرین ماحولیات نے سخت مخالفت کی ہے۔

 

اس منصوبے کے تحت، جو 2017 کی درمیان تک آپریشنل ہوجائے گا، 660 میگاواٹ کے 6 کوئلے پر چلنے والے بجلی کے پلانٹ لگائے جائیں گے۔

 

تھر میں وسیع کوئلے کے ذخیرے

 

جیولاجیکل سروے آف پاکستان کے مطابق، تھرپارکر ضلع میں 175 بلین ٹن کوئلے کے زیرزمین ذخائر موجودہ ہیں، جو سعودی عرب اور ایران کے تمام تیل کے ذخائر کے برابر ہیں، جس کی مدد سے 200 سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنائی جاسکتی ہے۔

 

پندرہ لاکھ آبادی والے اس تھرپارکر ضلع میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ایسوسیئیشن فار واٹر، اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ انرجی کے سربراہ علی اکبر راہیموں کا کہنا ہے، "بلاشبہ تھرپارکر میں لگنے والے کوئلے کے منصوبے سے مقامی صحرائی نظام تباہ ہوجائے گا۔ اس سے زیر زمین پانی کے تیزی سے گھٹتے ہوئے ذخیرے اور زیادہ تیزی سے ختم اور آلودہ ہوجائیں گے۔ "

 

انہوں نے مزید کہا کہ کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹوں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے سے زیرِزمیں پانی کے ذخائر تیزی سے استعمال میں ہونے سے مقامی لوگ اور علاقے میں چھہ لاکھ سے زائد چرنے والے مال مویشیوں کے لیے خطرہ ثابت ہوگا۔ 

 

اسی سال اپریل میں، وزیراعظم نواز شریف نےسندھ صوبے کے جامشورو شہرمیں ایک اور چھہ سو میگاواٹ کوئلے پر چلنے والے بجلی منصوبے کی منظوری دی۔ اور مئی کے ماہ میں اسی حکومت نے دو اور کوئلے کے منصوبوں کی منظوری دی، جو بلوچستان صوبے کے ساحلی علاقے گڈانی میں تیار ہونے والے گڈانی پاور پارک میں لگائیں جائیں گے۔

 

پاکستان کے ریاستی وزیر برائے پانی و نوانائی، عابد شیر علی، کا کہنا ہے کہ گڈانی پاور پارک میں کوئلے پر چلنے والے دس بجلی کے منصوبے بنانے کے پلانٹ لگائے جائیں گے، جن سے چھ ہزار چھہ سو میگاواٹ بجلی پیداہوسکے گی۔ 

 

ریاستی وزیر کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے لیے چائنہ نے چھ پلانٹ لگانے کے لیے مالی مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ اس کے علاوہ دو منصوبوں کے لیے اے۔این۔سی دبئی نے مالی مدد کرنے پر یقین دہانی کرائی ہے۔ سائنر گروپ آف ترکی نے گڈانی پاور پارک میں ایک اور منصوبے کے لگانے کے لیے رضامند ظاہر کردی ہے۔

 

اس سال مارچ میں پنجاب صوبے کے وزیرِاعلی، شہباز شریف، نے بھی سات ہزار آٹھ سو میگاواٹ کے کوئلے پر چلنے والے بجلی کے منصوبوں کا اعلان کیا۔

 

مارچ 25 کو ایک میٹنگ کے دوران، شہباز شریف نے وفاقی وزیر برائے مالیات، اسحاق ڈار، کو بتایا کہ پنجاب حکومت 2017 تک تیراہ ہزار اور بیس میگاواٹ کے دو الگ الگ کوئلے پر چلنے والے بجلی منصوبے مکمل کرلے گی اور باقی 2018 میں مکمل کرلیے جائیں گے۔

 

تیل کا بڑہتا ہوا درآمدی بل

 

تین جون کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کے دوسرے دن بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اب زیادہ طر بجلی تیل سے پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا تیل درآمدی بل، جو اب چودہ بلین ڈالر ہے، بڑھتا جارہاہے اور اب پاکستان کے کے کمزور فارن ایکسچنج رزرو کے لیے خوش آئن نہیں ہے۔ 

 

تاہم تیل کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے ملک میں تیل پر چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلے پر منتقل کیا جارہا ہے۔

 

وفاقی وزارت برائے پانی و توانائی کے وزیر خواجہ آصف نے ایک فارن نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایندھن منتقلی توانائی کے سیکٹر میں ایک تاریخی اور اہم تبدیلی ہے۔ 

 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کوئلے سے صفر بجلی پیدا کرتا ہے اور اس کے برعکس پڑوسی ملک اںڈیا 70 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کرتا ہے۔

 

مگر حال ہی میں جاری ہونے والے اکانامک سروے آف پاکستان کے مطابق، اس وقت پاکستان 6 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کرتا ہے۔

 

مگر ماحولیاتی ماہرین نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے کہ وفاقی ڈویژن برائے موسمی تغیرات کے منسٹر ان چارج ہونے کے باوجود وزیراعظم نواز شریف کیسے اتنے پیمانے پرکوئلے سے توانائی بنانے کے منصوبوں کی منظوری دے سکتے ہیں۔ 

 

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان تقریباً ایک لاکھ میگاواٹ بجلی صرف پانی سے پیدا کرسکتا ہے اور سالانہ تقریباً تین ملین میگاواٹ بجلی سورج کی روشنی سے پیدا کرسکتا ہے۔ 

 

سلیم شیخ اور صغرا تنیو اسلام آباد میں نمائندگان برائے موسمیاتی تبدیلی اور ترقیاتی سائنس ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.