پاکستان میں کلین انرجی کو فروغ دینے کے لیے بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Thursday, 17 July 2014 08:19 GMT
Central government and Punjab state make big investments in solar and wind in a bid to plug crippling power shortages

اسلام آباد، پاکستان [تھامسن رائٹرزفائونڈیشن] - بگڑتی ہوئی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں حکومتی سیاستدانوں نے صوبوں کی سال ۲۰۱۴-۱۵ کے مالی سال کے وفاقی اور صوبائی بجٹوں میں متبادل توانائی کے ذرائع سے بجلی، جو ماحول دوست ہیں، پیدا کرنے کے لیے اضافہ کیا ہے۔

نئے مالی سال، جو جولائی سے شروع ہوگیا ہے، کی بجٹ میں وفاقی حکومت نے ملک میں متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے لیے کافی تعداد میں فنڈز رکھے ہیں، تاکہ پاکستان کے معاشی پہیے کو چلتا رکھا جائے۔

وفاقی وزیر برائے مالیات اسحاق ڈارنے کہا کہ پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ پانچ سے سات سال کا انتظار کیا جائے جب ہائیڈروپاور منصوبے بجلی پیدا کرنا شروع کردیں گے اور تب تک ہماری صنعت اور ذراعت بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے متاثر ہوتے رہے۔ تاہم، ہمیں متبادل منصوبہ بھی تیار کرنا ہوگا تاکہ متبادل ذرائع سے سستی اور ماحول دوست بجلی تھوڑے عرصے میں پیدا کی جاسکے جیسے سولر اور ونڈ انرجی سے بجلی کی پیداوار۔

اسی متبادل منصوبے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، موجودہ حکومت نے نئی وفاقی بجٹ میں اچھی تعداد میں پیسے مختص کیے ہیں، تاکہ اس منصوبے پر کام شروع کیا جاسکے اور ایک سے دس میگاواٹ کے درمیان والے سلور اور ونڈ سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں سے بجلی پیدا کی جاسکے۔

وفاقی بجٹ کے دستاویزات کے مطابق، تقریباً ۱۵۰ ملین ڈالرز مختلف متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جن میں ۱۰۰۰ میگاواٹ کا قائداعظم سولر پارک جو پنجاب کے ضلع بھاولپور میں تعمیر کیا جارہا ہے۔ دوسرا منصوبہ پانچ میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ ہے جو بلوچستان کے خضدار ضلع میں تعمیرکیا جائے گا۔ تیسرا منصوبہ سندھ کے علاقے جھمپیر اور گھارو میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے ہیں۔

ایشا کا سب سے بڑاسولرپارک

پاکستان کے تمام پانچوں صوبوں میں پنجاب نے سب سے زیادہ پیسے اپنی نئی بجٹ میں مختص کیے ہیں جو متبادل ذرائع سے توانائی کے سولراور بائیوگیس جیسے منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے خرچ کیے جائیں جائیں گے۔

پنجاب نے اپنی سالانہ بجٹ میں ۳۲۴ملین ڈالرز توانائی کے مختلف منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے رکھے ہیں، جس کا ۸۰ فیصد سے زیادہ متبادل توانائی سے وابسطہ منصوبوں پر خرچ کیا جائےگا۔

اُن تمام منصوبوں میں ایشیا میں سب سے بڑا اور ۲۶۳۰ ہیکٹرز پر تعمیر ہونے والہ ۱۰۰۰ میگاواٹ کا قائد اعظم سولر پارک ہے، جس کے لیے صوبے نے ۱۷۲ ملین ڈالر بجٹ میں مختص کیے ہیں۔ اس منصوبے سے اس سال کے آخر تک ۱۰۰ میگاواٹ کی بجلی پیدا کی جاسکے گی اور مزید ۹۰۰ میگاواٹ بجلی تین سالوں میں پیدا ہونا شروع ہوجائے گی جس کے لیے دو بلین ڈالرز کی انوسٹمنت درکار ہوگی۔

اس منصوبے کے علاوہ، پنجاب حکومت نے ۲۰ ملین ڈالرز بائیوماس پاور پلانٹزدھان اور گندم والے علاقوں میں لگانے کے لیے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ مزید ۵۰۰ ملین ڈالرز بائیوماس، بائیوگیس، سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے صوبے کے ۳۶ مختلف گاوں میں تحقیقی منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے جائیں گے۔

ایک اور منصوبے کے تحت، پنجاب حکومت نے ۱۲میلن ڈالرز ۱۳۰۰۰ بائیوگیس پر چلنے والے زرعی ٹیوب ویل لگانے کے لیے مختص کیے ہیں، جس سے سالانہ تقریباً ۴۰ ملین لیٹر ڈیزل کی بچت ہوگی۔

سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ صوبوں نے اپنی بجٹوں میں متبادل توانائی سے بجلی پیداکرنے کے لیے پنجاب صوبے کی نسبتً بہت ہی ناکافی پیسے مختص کیے ہیں، جہاں پر روزانہ تقریباً ۱۵ گھنٹے بجلی نہیں ہوتی۔

سندھ نے اپنی نئی بجٹ میں ۲۰۳ ملین ڈالرز توانائی کے شعبے کے لیے رکھے ہیں، جس میں سے ۶۰ فیصد کوئلے سے توانائی پیداکرنے کے پلانٹ لگانے پر خرچ ہونگے۔ ۲۰ فیصد سے کم پیسے رنیوایبل انرجی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ 

سندھ کے ضلع تھرپارکراور دوسرے اضلاع میں۳۵۰ اسکولوں کے لیے سولر انرجی تک رسائی دینے، ۲۵۰ سولر ٹیوب ویلز اور۱۸۰۰ سولر پاورڈ خارے پانی کو صاف کرنے کے لیے نصب کیے جائیں گے 

خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت نےاپمنی نئی بجٹ میں ۷۱ ملین ڈالرز ۳۵۰ منی ہائیڈروپاور منصوبوں پر خرچ کرے گی۔

ٹیکسٹائل ملزر بند ہورہے ہیں۔

پنجاب صوبے کے وزیر برائے مالیات، مُجتبی شُجاالرحمان نے تھامسن رائٹرزفائونڈیشن کو فون پر بتایا کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے کاروباری طبقہ بے حد پریشان ہے اور وہ اپنے صنعتی کاروباری سرگرمیوں کو بند یا کم کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ بےروزگار ہورہے ہیں۔

تاہم، موجودہ صوبائی حکومت متبادل توانائی کے ذرائع سے بجلی پیداکرنے پر غور کررہی ہے اور ایسے منصوبے اس سال میں شروع کیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں کئی سیکڑوں میگاواٹ بجلی ایک سے دو سال میں پیدا ہونی شروع ہوجائے گی، جس سے بجلی کے بحران میں واضع کمی آئے گی۔

پنجاب پاکستان میں کُل پیداہونے والی بجلی کا ۶۸ فیصد استعمال کرتا ہے، تاہم بجلی کے موجودہ بحران سے صوبے کی صنعت اور ملکی معیشت کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے پنجاب میں چیرمئن، ایس - ایم تنویر کا کہنا ہے کہ موجودہ بجلی بحران کی وجہ سے گذشتہ ایک سال کے دوران پنجاب میں تقریباً ۱۰۰ ٹیکسٹائل ملز بند ہوچُکے ہیں اور کئی سیکڑوں اور بند ہونے کے کنارے پر ہیں۔ اس کے علاوہ، کاروباری سرگرمیاں کم ہونے یا بند ہونے سے ہزاروں لوگ بےروزگار ہورہے ہیں، جس سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

تاہم ہمیں امید ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی مدد سے شروع ہونے والے متبادل ذرائع سے بجلی پیداکرنے کے منصوبے سے بجلی کے بحران کی شدت میں واضع کمی آئے گی اور کاروباری و صنعتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوجائیں گی۔

سلیم شیخ اور صغراہ تنیو اسلام آباد میں نمائندگان برائے موسمیاتی تبدیلی ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.