تیزی کے ساتھ زیر زمین پانی کی سطح گرنے سے پاکستان میں غذائی قلت کا خدشہ

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Wednesday, 10 June 2015 10:40 GMT

Farmer Ghulam Mustafa plows his field in Pakpattan district in Pakistan’s Punjab province. TRF/Aamir Saeed

Image Caption and Rights Information
As ground water levels fall, the risk to food production is quickly growing

پاکپتن، پاکستان (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) ۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں غلام مصطفی اب تک اپنے دس ایکڑ زمیں گنا، چاول، گندم اور جو کاشت کر کے گزارہ کر رہا تھا،لیکن اب اسکے لئے مشکل ہو رہا ہے، کیونکہ اسکے علاقہ میں کنوؤں کے اندر پانی کی سطح کم ہورہی ہے اور فصلوں کے لئے پانی نکالنے پر خرچہ بڑھ رہا ہے۔ علاقے کے بہت سارے دوسرے کسانوں کی طرح، اکاون سالہ مصطفی اب اپنی آدھی زمین پر فصل کاشت کرے گا جبکہ باقی آدھی جانوروں کے لئے خالی چھوڑ دے گا۔

مصطفی کا کہنا ہے کہ اسکے علاقہ میں گزشتہ پانچ سے چھ سالوں کے اندر زیز زمین پانی کی سطح پندرہ سے بیس فٹ گر گئی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ ہر سال مسلسل گر تی جارہی ہے۔واپڈا کے ایک تحقیقاتی ادارہ انٹرنیشنل واٹر لاگنگ اینڈسلینٹی ریسرچ انسٹیوٹ کے مطابق پنجاب بھر اور خیبر پختونخواہ کے دو اضلاع میں زیر زمین پانی کی سطح سولہ سے پچپن سینٹی میٹر سالانہ کم ہو رہی ہے اور کسانوں کی طرف سے فصلوں کے لئے زیادہ پانی کے حصول کی کوششوں سے مسئلہ مزید بگڑتا جا رہا ہے۔

اس تحقیقاتی ادارہ کے ڈائریکٹر محمد سعید کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بیالیس فیصد زمین کنوؤں کے پانی سے سیراب کی جاتی ہے اور اضافی پمپنگ سے زیرزمین پانی کی سطح تیزی کے ساتھ نیچے جا رہی ہے۔جیسے مصطفی کا کہنا ہے کہ اسے اپنی زمیں سیراب کر نے کے لئے ہر سال کنووے کو گہرا کرنا پڑتا ہے اور جوں جوں اسکا کنوا گہرا ہوتا جا رہاہے اسکے جنریٹر کے تیل کا خرچہ بھی بڑھ رہا ہے، گزشتہ ایک سال میں اسکا تیل کا خرچہ پانچ ہزار سے بڑھ کر سات ہزار روپے ہو گیا ہے۔

سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ان علاقوں میں زیز زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کا کوئی موثر طریقہ موجود نہیں ہے کیونکہ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان دریائے ستلج اور بیاس کاپانی استعمال نہیں کر سکتا۔سندھ طاس معاہدہ انیس سو ساٹھ میں بھارت اور پاکستان کے مابین طے پایا تھا جس کے تحت تین تین دریا ؤں پر دونوں ملکوں کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا، سعید کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں کسان زیادہ پانی والی فصلیں جیسا کہ گنا اور چاول کاشت نہیں کر سکیں گے۔

پاکستان کے ادارہ شماریات کی دوہزار دس کی زرعی مردم شماری کے مطابق،ملک کی تقریبا چونسٹھ فیصد آبادی دیہاتی علاقوں میں رہتی ہے اور زرعی شعبہ سے منسلک کاموں سے روزگار حاصل کرتی ہے۔ادارہ برائے پائیدار ترقی پالیسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری کا کہنا ہے کہ ملک کی اس وقت آدھی سے زیادہ آبادی غذائی قلت کا شکار ہے اور اگر اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں زیز زمین پانی کی سطح کم ہوتی رہی تواگلے دس سالوں میں ملک کی ساٹھ فیصد آبادی کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تحقیقاتی ادارہ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک سو پینتالیس ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے جبکہ ملک کے پاس صرف چودہ ملین ایکڑ فٹ ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، یعنی پاکستان بین الاقوامی معیار کے برعکس صرف تیس دن کا پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔

پانی کے ذخیرہ کی گنجائش بڑھانے کی اشد ضرورت ہے لیکن سلہری کا کہنا ہے کہ کسانوں کی بھی تربیت کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ فصلوں کے لئے کم سے کم پانی استعمال کریں اور اسکے ساتھ حکومت کو بھی کم پانی استعمال کرنے والے بیج تیار کرنے چاہیں۔

پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے کنٹری ڈائریکٹر پرویز امیر کا کہنا ہے کہ خراب موسم، ژالہ باری اور پانی کی کمی کی وجہ سے اس سال گندم کی پیداوار ڈیڑھ ملین ٹن کم ہوئی ہے، انہوں نے تجویز دی کہ حکومت سیلاب کے موسم میں ان علاقوں کی مصنوعی طریقوں سے آبیاری کرے جہاں زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔سلہری کی طرح امیر کا بھی یہ ماننا ہے کہ حکومت کو کسانوں کی تربیت کرنی چاہیے کہ وہ کیسے کم پانی استعمال کر کے زیادہ پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔

تاہم مصطفی جیسے کسانوں کے لئے زیز زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کا جلد کوئی حل نکلتا ہوا نظر نہیں آرہا اسی لئے اسے پریشانی کا سامنا ہے کہ اگر پانی کی دستیابی بہتر نہ ہوئی تو اگلے دس سالوں میں اسکی ساری زمینیں صحرا میں بدل سکتی ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.