کراچی میں گرمی کی لہر، لوڈشیڈنگ اور پانی کی کمی کی وجہ سے اموات میں اضافہ جاری

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Thursday, 25 June 2015 15:01 GMT

A man, who collapsed due to the heat, lies on a stretcher with his belongings of sandals and water bottles, outside Jinnah Postgraduate Medical Centre (JPMC) in Karachi, Pakistan, June 24, 2015. REUTERS/Akhtar Soomro

Image Caption and Rights Information
Lack of reliable water supplies and power to run fans and air conditioners is contributing to death toll

اسلام آباد (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) ۔ انسٹھ سالہ صابر مجید نے کراچی کے پینتالیس ڈگری سنٹی گریڈ درجہ حرارت میں روزہ رکھا ہوا تھا جب وہ سوموار کی دوپہر پانی کی کمی کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا،پانی اور نمکیات لانے کے لئے اسکے گھرو الے قریبی دوا خانہ کی طرف دوڑے اور ایمبولنس کا بھی بندوبست کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

اورنگی ٹاؤن کی رہائشی ا سکی غمزدہ بیگم شبانہ مجید کا کہنا ہے کہ: "جب ایمبولینس نہ ملی تو ہم نے ایک ٹیکسی کرائے پر لی اور اسے ہسپتال لے گئے، ہسپتال پہلے ہی مریضوں سے بھرا ہوا تھااور جب تیس چالیس منٹ کے بعد ایک ڈاکٹر اسے دیکھنے کے لئے آیا تو اسے نے بتایا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔"

شہریوں کا کہنا ہے کہ جب درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جانے کے باوجود شہر میں بارہ سے چودہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، حکومتی اور ہسپتالوں کے افسران کا کہنا ہے کہ ہفتہ سے لیکر اب تک گیارہ سو سے زائد لوگ گرمی کی وجہ سے فوت ہو چکے ہیں۔کراچی سمیت صوبہ سندھ کے دوسرے علاقوں میں گرمی نے اس وقت رخ کیا جب ہمسایہ ملک بھارت میں ایک ماہ سے کم عرصہ قبل ہی گرمی کی وجہ سے دوہزار سے زائد اموات واقع ہیں۔

پاکستان میں اتنی زیادہ اموات کے کئی اسباب ہیں جن میں لوڈشیڈنگ، پانی کی کمی اورشدید گرمی میں رمضان کے طویل اوقات شامل ہیں۔

شبانہ مجید کا ماننا ہے کہ اگر بجلی اور پانی دستیاب ہوتے تو اسکا شوہر بچ سکتا تھا: "ہم تما بل وقت پر جمع کروادیتے ہیں لیکن بدلے میں ہمیں پانی کی کمی اور طویل لوڈشیڈنگ ملتی ہے، لوگوں کو اس بدعنوان اور نااہل حکومت کے سامنے کھڑا ہوجانا چاہیے۔"

اس نے حکومت سے اپیل کی کہ اسکے علاقہ میں بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کی جائے کیونکہ اسکی نو سالہ بیٹی بھی گرمی کی وجہ سے بخار میں مبتلا ہے،متاثرہ خاندان حکومت کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گرمی کی حدت سے بچنے کے لئے نہ تو کوئی آگاہی مہم چلائی گئی اور نہ ہی ہسپتالوں میں دوائیاں اور دوسری ضروری ادویات پہنچائی گئی ہیں تاکہ مریضوں کا بروقت اور تسلی بخش علاج ہو سکے۔
کراچی کے پوش علاقہ ڈفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کی رہائشی مسرت نوید کا کہنا ہے کہ گرمی کی اس لہر سے پہلے اسکے علاقہ میں چار سے چھ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی جسکا دورانیہ اب بڑھ کر دس گھنٹے تک ہو گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جب بجلی آتی بھی ہے تو گھر کے اکثر آلات کام نہیں کرتے، پورا نظام برباد ہو گیا ہے اور احتساب کا کوئی طریقہ کارموجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں کے مردہ خانے بھرے پڑے ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے، لوگ غصے سے بھرے پڑے ہیں اور اگر حکومت حالات بہتر کرنے میں ناکام رہی تو لوگ اس کے خلاف سڑکوں پر آسکتے ہیں۔

اس تنقید کو مد نظررکھتے ہوئے، حکومت کراچی شہر کا درجہ حرارت کم کرنے کے لئے مصنوعی بارش کرنے پر غور کررہی ہے، اس سلسلے میں وزارت بندرگاہ وجہازرانی نے منگل کو ماہرین اور سرکاری افسران کا ایک اہم اجلاس بلایا تھا لیکن کو ئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا،وزارت کے ڈائریکٹر جنرل عبدالمالک غوری کا کہنا ہے کہ اس ہفتہ میں ہی ایک اور اجلاس طلب کیا جائے گا اور مصنوعی بارش کو یقینی بنانے کے لئے اس پر ممکنہ طور پر آنے والے اخراجات اور دوسرے ضروری پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے اور بارش کے انتظامات مکمل کرنے میں ایک ہفتے سے زائد وقت لگ سکتا ہے۔

اسی اثناء میں مریضوں کو دیکھنے کے لئے پاک فوج اور رینجرز نے کراچی اور صوبہ سندھ کے مختلف علاقوں میں خصوصی سینٹربھی قائم کر دیے ہیں جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں اور ان سینٹرز تک پہنچنے کے لئے اب بھی گاڑیا ں دستیاب نہیں ہیں۔

پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے کنٹری ڈائریکٹر پرویز امیر کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے شہرمیں ٹراما سینٹر تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ کچی آبادیوں اور ملحقہ علاقوں میں پانی اور بجلی کی دستیابی کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیئے، انکا کہنا ہے کہ مصنوعی بارش کے برعکس یہ اقدامات زیادہ قابل عمل اور کم خرچ ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ موبائل فون پر پیغامات بھیج کر ، ریڈیو اور ٹی وی پر آگاہی کے اشتہارات چلا کر اس ناگہانی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا جا سکتا ہے،گرمی کی قبل ازوقت پیشگوئی بھی کی جاسکتی ہے اور اسکے لئے حکومت کو چاہیے کہ مستقبل میں ایسی کسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنے پیشگوئی کے نظام کو بہتر بنائے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے سربراہ غلام رسول کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب میں ہواکے کم دباؤ کے باعث کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، کم ہواکا دباؤ چار پانچ روز سے زیادہ نہیں رہے گا اور سمندری ہواؤں نے پہلے ہی کراچی کا رخ کر لیا ہے، سمندری ہوائیں چلنے کے باعث شہرکراچی کا درجہ حرارت چوالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو کر چھتیس ڈگری سینٹی گریڈپر پہنچ گیا ہے اور یہ آنے والے دنوں میں مزید بہتر ہو جائے گا۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.