موسم سرما کی کم بارشوں کےفصلات پر ممکنہ منفی اثرات مرتب ہونے پر کاشت کاروں کا روزگار کی تلاش میں شہروں کی طرف رخ

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Friday, 18 March 2016 11:28 GMT

Wheat farmer-turned-labourer Nasir Tauqeer Khan cuts marble at a construction site in Islamabad, after a winter drought slashed the expected harvest from his fields. TRF/Saleem Shaikh

Image Caption and Rights Information
"Had I stayed behind in my village, my family would have been starving," says one migrant

 

اسلام آباد [تھامسن رائٹرز فائونڈیشن] گندم کاشتکار ناصر توقیر خان جنوری کے ماہ میں اپنے کھیتوں میں کررہا ہوتا اگر موسم سرما کے دوران اچھی بارشیں ہوتیں۔ مگر اب وہ اسلام آباد میں روزانہ اجرت پر ایک گھر کی تعمیر کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ کما سکے۔

 

پنتالیس سالہ کہتے ہیں کہ اگر میں اپنے گاوں میں ہوتا تو اپنے بیوں بچوں کے ساتھ فاقہ کاٹ رہا ہوتا۔ 

 

حالیہ موسم سرما غیر معمولی طور پرگرم اور خوشک رہی۔ بارشیں غیر معوملی طور پر کم رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بارشیں معمول سے ایک تہائی سے بھی کم رہیں۔ جس کے باعث گندم کی کاشت بری طرح متاثر ہوکر رہی ہے۔

 

پاکستان کے بارانی علاقوں کے کاشتکار کہتے ہیں کہ تیزی سے بدلتے مگر بے اعتبار موسم سے مطابقت پزیری کے لیے وہ اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

 

اسلام آباد سے تقریباً ۵۵ کلومیٹر کی مسافت کی دوری پر واقع گُجر خآن کے رہاشی توقیر خان کہتے ہیں کہ تاہم، ایسے موسم کے وجہ سے کاشتکاری متاثر ہونے کے نتیجے میں روزگار کی تلاش میں کاشتکار کے لیے اپنے گاوں سے شہروں کی طرف ہجرت کرنا کئی مرتبہ ناگذیر ہوجاتا ہے۔ تاکہ وہے اپنے خاندان کو بھوک اور بدحالی سے بچاسکیں۔

 

 اس دفعہ نومبر کے بجائے فروری کے درمیان میں کچھ بارش اور شمالی علاقوں میں برفاری کے ستمبر میں کاشت کی جانے والی گندم اور مکئی کے فصلات پر مثبت اثرات مرتب ہونے سے متعلق کچھ امید پیدا ہو تو گئی ہے، مگر اس سے پیداوار کافی کم رہے گی۔

 

اسلام آباد کے شمال مشرق میں واقع بارانی ضلع چکوال کے رب نواز گُجر نے حالیہ موسم سرما میں۱۹۲ ایکڑ پر دالیں، سرسوں اور جو کاشت کیے تھے۔ تاہم کم بارشوں کے باعث اب وہ کم پیداوار ہونے پر کافی پریشان ہے۔

 

ایک تہائی بارشیں

 

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول کہتے ہیں کہ حالیہ موسم سرما کی بارشیں تقریباً دومہینے کی تاخیر سے شروی ہوئیں اور معمول سے ۶۵ فیصد کم رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما کی تمام فصلات کی کل پیداوار ۳۰ فیصد کم ہوسکتی ہے۔ 

 

سابقہ وفاقی وزیر سیرت اصغر کہتے ہیں کہ پاکستان کی کُل زیرکاشت رقبے کا ایک تہائی بارانی ہے، جہاں پر کاشتکار گندم، جو، سرسوں، دالیں، مکئی اور ٘مختلف سبزیاں کاشت کرتے ہیں۔ مگر اس سال ان فصلات کی پیداوار میں کافی کمی آسکتی ہے۔

 

پاکستان میں گندم اکتوبر اور دسمبر کے درمیان کاشت کی جاتی ہے اور اس کی بوائی مارچ اور اپریل کے درمیان ہوتی ہے۔ تاہم اگلے سال کاشت کی گئی گندم کی پیداوار کا ہدف ۲۶ملین ٹن رکھی گئی تھی۔ مگر ماہرین زراعت کہتے ہیں کہ یہ پیداوار ۲۳ ملین ٹن سے بھی کم رہے گی۔

 

کاشتکاروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پاکستان ایگری فورم کے سربراہ ابراہیم مغل کہتے ہیں خاص کر گندم کے کاشتکار پیداور میں ممکنہ نقصان کے حوالے سے پریشان ہیں اور کافی مالی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.