شدید گرمی میں اموات کے خطرات کے پیش نظر کراچی میں حفاظتی مراکز کھول دئیے گئے ہیں

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Thursday, 16 June 2016 09:15 GMT

Volunteers cover their heads with water-soaked towels, to beat the heat, while distributing water bottles, outside Jinnah Postgraduate Medical Centre (JPMC) in Karachi, Pakistan, June 25, 2015. REUTERS/Akhtar Soomro

Image Caption and Rights Information
After nearly 1,300 people died in extreme heat last year, the city is stepping up preparations for this summer


اسلام آباد (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) ۔۔گزشتہ سال موسم گرما میں، کراچی میں درجہ حرارت جب 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھا تو شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی اموات واقع ہو گئی تھیں۔ اس سال اموات کو روکنے کے لئے شہرمیں پہلے سے ہی عام عوام کے لئے 179حفاظتی اور امدادی مراکز کھول دیے گئے ہیں۔

سرکاری حکام کئی ایک ایمبولینس ڈرائیوروں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ رمضان کے اس ماہ میں دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ شہر کے دوکروڑ چالیس لاکھ لوگوں کی آبادی کے لئے پانی اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنا یا جا سکے۔ دوسری طرف علماء کرام کا بھی کہنا ہے کہ شدید گرمی کی وجہ سے اگر کسی کی زندگی کو خطرہ ہے تو وہ بھی بے شک روزہ نہ رکھے۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کا کہنا ہے ، "اگر ایک ڈاکٹر کسی شخص کو یہ کہہ دے کہ شدید گرمی یا پھر روزہ میں کسی بیماری کی وجہ سے اسکی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے یا بیماری بڑھ سکتی ہے، تو وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے۔"
ؔ 
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر رمضان میں کسی بھی شہر میں شدید گرمی کی لہر آتی ہے تو علماء میڈیا کے ذریعے اس پیغام کو عام بھی کریں گے۔

طبی اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ دنیا کے کچھ حصوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان خطرات سے بچنے کے لئے نئے اور آسان حل تلاش کئے جائیں۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں درجہ حرارت پہلے ہی 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، تاہم کراچی میں درجہ حرارت ابھی 40ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے ہے لیکن پھر بھی شہر بھر میں حفاظتی اور امدادی مراکز کھول دیے گئے ہیں جو راہگیروں کو پینے کا پانی میسر کرتے ہیں۔

گزشتہ سال موسم گرما میں، جون اور جولائی کے ماہ میں مسلسل 13دن کی گرمی کی شدید لہر کے باعث 1270لوگ ہلاک جبکہ 36,000کے قریب براہ راست اس سے متاثر ہو ئے تھے، پاکستان کے محکمہ موسمیات، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت سے نمٹنے کے لئے اس سال وہ بہتر طور پر تیار ہیں،جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اموات کو روکنے کیلئے ابھی بہت کچھ مزید کرنے کی ضرورت ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول کا کہنا ہے کہ اس سال اپریل میں کراچی میں بروقت موسم کی اطلاع دینے کے لئے ایک مرکز قائم کیا گیا ہے جو متعلقہ حکومتی اداروں، میڈیا کے ارکان اور کئی دوسرے اداروں کو شدید گرمی کی شدت کے متعلق تین دن پیشگی اطلاع دے گا، انکا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی مدد سے انہوں نے کراچی میں پہلے ہی سے ممکنہ خطرے سے دوچار کئی ایک علاقوں کی نشاندہی کر لی ہے تاکہ شدید گرمی کی صورت میں لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

شہرمیں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث لوگوں نے ابھی سے احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ صوبہ سندھ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر اجے کمار سیوانی کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل کے ماہ میں کراچی میں 400سے زائد رضاکاروں اور ایمبولینس کے ڈرائیوروں کو شدید گرمی کی لہر کی صورت میں ابتدائی طبی امداد دینے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ امدادی مراکز صوبہ کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں قائم کردیے گئے ہیں جن میں کراچی، حیدرآباد،لاڑکانہ ، میر پور اور سکھر شامل ہیں، ان مراکز پر ادویات اور ایمبولینس کی سہولت دستیاب ہے۔

گرمی کی شدید لہر کے حوالہ سے آگاہی پیدا کرنے کے لئے صوبہ بھر میں پانچ لاکھ بروشر اور چھ ہزار بینر بھی تقسیم کئے گئے ہیں۔ لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی پیءں، چائے اور کافی پینے سے
اجتناب کریں اور صبح دس بجے سے لیکر شام چار بجے تک غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں ، عوام کی مدد کے لئے ان مراکز کے ٹیلیفون نمبر بھی مشتہر کئے گئے ہیں۔

سیوانی کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس سال ایک شخص بھی شدید گرمی کی وجہ سے ہلاک نہ ہو، جبکہ اپریل کے گزشتہ ہفتہ میں لوکل میڈیا نے دو اشخاص کی اموات کی خبر چلائی ہے، جسکی سرکاری حکام نے تاحال تصدیق نہیں کی۔ ماہرین نے سندھ حکومت کے ان تمام اقدامات کو سراہنے کے ساتھ ساتھ، خبردار بھی کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کی ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ضرورت ہے۔

لیڈ پاکستان کے چیف ایگزیکیوٹو آفیسرافسر علی توقیر شیخ کا کہنا ہے کہ اگر ادارہ موسمیات بروقت اپنی پیش گوئی لوگوں تک پہنچائے تو اموات کو روکا جا سکتا ہے، انکا یہ بھی کہنا ہے کہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے آپس میں باہم رابطہ رکھیں۔

کراچی میں قائم حفاظتی اور امدادی مراکز پر جانے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ طلباء اور راہگیروں کے لئے بہت مفید ہیں کیونکہ وہاں انہیں پینے اور ہاتھ مہنہ دھونے کے لئے پانی آسانی کے ساتھ مل جاتا ہے، ایک اکیس سالہ میڈیکل کی طالبہ سمیرا عمبرین کا کہنا ہے کہ اس دفعہ ضلعی انتظامیہ نے بہت اچھے اقدامات کیئے ہیں اور قوی امید ہے کہ گزشتہ ماہ رمضان کے برعکس اس سال کوئی شخص گرمی کی شدید لہر کے وجہ سے فوت نہیں ہو گا۔

A man, who collapsed due to the heat, lies on a stretcher with his belongings of sandals and water bottles, outside Jinnah Postgraduate Medical Centre (JPMC) in Karachi, Pakistan, June 24, 2015. REUTERS/Akhtar Soomro

WILL IT WORK?

Some experts, however, say Sindh's plans are a good start but such measures need to be carried out effectively - and used throughout Pakistan.

Heat-related deaths are preventable if the Met Office releases its forecast well in advance and district administrations have a proper management plan, said Ali Tauqeer Sheikh, chief executive officer of Lead Pakistan, a non-profit organisation in Islamabad. But so far that is not the case countrywide, he said.

He said that a crucial component of an effective heat wave management plan is a comprehensive institutional communication and coordination plan. "This is important to prevent duplication of efforts and identify the most vulnerable areas," he said.

Early users of Karachi's heat relief centres said they are already hugely helpful to students, commuters and pedestrians who stop by to drink water, rinse their faces and just cool off when temperatures soar.

"The district administration has made much better arrangements this time and we hope no one dies this Ramadan, unlike the last year," said Sumera Ambreen, 21, a medical student who stopped at a centre in North Nazimabad recently.

(Reporting by Aamir Saeed; editing by Laurie Goering :; Please credit the Thomson Reuters Foundation, the charitable arm of Thomson Reuters, that covers humanitarian news, climate change, women's rights, trafficking and property rights. Visit http://news.trust.org/climate)

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.