قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی گلیشئرمانٹرنگ سسٹم کو بڑھانے کے لیے کوشش

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Tuesday, 23 August 2016 06:54 GMT

River monitoring experts of the Pakistan Meteorological Department plant a river flow gauge in flood-prone Bagrot river in Gilgit, in northern Pakistan. TRF/Saleem Shaikh

Image Caption and Rights Information
With glaciers melting faster in the face of climate change, flood risk is rising and early warnings will be key

 

اسلام آباد [تھامسن رائٹرز فائونڈیشن] - پاکستان کے محکمہ موسمیات نے شمالی علاقوں میں واقع عالمی حدت کے باعث تیزی سے پگھلنے والے گلیشئرزکی رفتار کو جانچنے اور ان کے معاشی و سماجی اثرات کو سمجھنے کے لیے مانیٹرنگ نیٹورک کے نظام کو مزید بڑہانے اور اس کو موثر کرنے کے لیے تقریباً ساڑھے آٹھ ملین ڈالرز کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس مانیٹرنگ نظام کی وجہ سے سیلابوں کی بروقت پیشنگوئی کرکے معاشی اور سماجی اثرات کو کم کرنے میں مدد بھی حاصل ہوگی۔ 

 

پاکستان محکمہ موسمیات کے سائنسدانوں کے مطابق، ملک میں ۵۰۰۰ گلیشئرزپائے جاتے ہیں، مگر ان میں سے آدھے تیزی سے پگھل رہیں ہیں۔ گذشتہ دس سالوں میں گلیشئرز پگھلنے کی رفتار میں ۲۳فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے، جو دنیا کے کسی بھی علاقے میں پانے جانے والے گلیشئرز کی پگھلنے کی رفتار سے زیادہ ہے۔ 

 

حالیہ سال کے جولائی میں وفاقی حکومت نے تقریباً ۸۹۲ ملین روپے گلیشیائی علاقے کی موسم  اور گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار کے مطلق مزید قابل اعتبار معلومات اکٹھے کرنے کے چار سالہ منصوبے پر خرچ کرے گی۔ 

 

محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر غلام رسول نے تھامسن رائٹرز فائونڈیشن کو بتایا عالمی حدت کے باعث پاکستان کے گلیشیئرز پر مرتب ہونے والے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیےیہ منصوبہ ناگزیر ہے۔ اس منصوبے کی مدد سے محکمے کی موثر اور بروقت اور قابل اعتبار طریقے سے موسمیاتی وارننگ جاری کرنے کے حوالے سے کیپیسٹی میں بھی بہتری آئے گی۔ 

 

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے باعث ان علاقوں میں جہاں سیلاب بار بار آرہے ہیں ایسے علاقوں کے لوگوں کی جانون کو بچانے کے لیے کسی بھی موسمی تباہ کاری کے مطلق ۶۰ سے ۹۰ منٹ پہلے وارننگ جاری کی جاسکے گی۔

 

پاکستان سیلابوں سے متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہے۔ سال ۲۰۱۰ میں ملک کو سیلابوں نے برے طریقے سے متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ۱۶۰۰ لوگوں کی اموات واقع ہوئی تھی اور تقریباً ۱۴ ملین لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ، ملک کا ایک تہائی علاقہ سیلاب کے پانی کے گھیرے میں تھا۔ 

 

موسمیاتی اور ترقیاتی ماہرین کے مطابق، کسی بھی آفت سے نمٹنے کی تیاری میں ایک ڈالر خرچ کرنے سے آفت آنے کے بعد والے آخراجات میں سات ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔ 

 

ایس ایم ایس الرٹ

 

محکمہ موسمیات نے ایک اور ۱۵۹ ملین روپے کا چھہ سالہ منصوبہ بھی وفاقی  وزارت منصوبہ بندی اور ترقیات کو بجھوادیا ہے، جس کا خاص مقصد ملک بھر میں لگے ہوئے ویدھر فورکاسٹنگ سسٹم  کو جدید کرنا ہے۔

 

اس منصوبے میں ملک بھر میں ۲۲ جدید میٹیورولاجیکل ریڈار اسٹیشن اور ۴۰۰ نئی آٹومیٹک ویدھر اسٹیشن لگائے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ۹۸ ضلعوں میں کمیونٹی بیزڈ ویدھر آبزر ویٹوری اسٹیشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔

 

ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ پاکستان میں موجود فلڈ وارننگ ریڈار سسٹم انتہائی خصتہ حالت میں ہے۔

 

نیشنل ڈزاسٹر مئنجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان احمد کمال کہتے ہیں کہ ان کا ادارہ موسمیاتی آفتوں کے مطلق جاری ہونے والی وارننگس کو ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں کے تمام لوگوں تک بروقت پہچانے کے لیے ایس ایم ایس الرٹ کی سہولت کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے پر کام کررہا ہے، تاکہ لوگوں کی جانوں اور ان کے مال مویشیوں کو بچایا جاسکے۔

 

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نیشنل ڈزاسٹر مئنجمنٹ اتھارٹی پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی، پاکستان الیکٹرونک ریگیولیٹوری اتھارٹی سے رابطے میں ہے۔  

 

احمد کمال نے مزید کہا کہ  سال ۲۰۱۵ میں تقریباً ۱۰ ملین ایس ایم ایس الرٹ آفات سے دوچار ہونے والی کمیونیٹیز، خاص کر ان کو جو دوردراز پہاڑیوں والے علاقوں میں رہتے ہیں، کو بیجھے گئے تھے۔ 

 

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ۲۰۰ ملین آبادی میں سے ۱۴۰ ملین لوگ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ اور اگر اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے والے لوگوں کو اگر قدرتی آفات کےرونما ہونے سے کچھ وقت پہلے ارلی وارننگ کے متعلق بروقت ایس ایم ایس کیے جائیں تو بڑی حد تک جانی اور مالی نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ 

 

تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس سلسلے میں پاکستانی حکومت کو ڈزاسٹر ارلی وارننگ سسٹم کو جدید اور بڑھانا ہوگا۔ 

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.