پاکستان میں موسم سرما کی خوشک سالی کے اثرات کے لیے گندم کاشتکاروں کا سبزیوں کی طرف رحجان

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Friday, 2 December 2016 11:23 GMT

Muhammad Khan looks at the slow growth of his drought-hit wheat crop in Ghool village of Chakwal district, about 90 km (56 miles) southeast of Islamabad, Pakistan’s capital. TRF/Saleem Shaikh

Image Caption and Rights Information
Told rains won't come, some wheat farmers have switched crops - and are on track to avoid losses

 

روات، پاکستان [تھامسن رائٹرزفائونڈیشن] --- دوسرے ہمسایہ کسانوں کی طرح، بلال خان ہر سال اکتوبراور نومبر کے درمیان گندم کاشت کرتا رہا ہے۔ 

 

حالیہ سال بھی اسلام آباد سے ۱۸ کلومیٹر کی دوری پر واقع روات شہر کے ایک نواحی قصبے میں انہوں نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں گندم کی کاشت مکمل کی۔ مگر ان کے لیے گندم کے فصل کی صورتحال پریشان کن ہورہی ہے۔ 

 

ان کا کہنا ہے کہ ۲۱نومبرتک گندم کی فصل کے پودے تین انچ تک بڑھے ہیں جو ۱۲ انچ تک ہونی چاھیے تھی۔ اس کی وجہ موسم سرما کی بارشوں کا نہ ہونا ہے۔

 

تاہم، اپریل میں گندم سے ہونے والی ممکنہ طور ہر کم پیداورسے معاشی نقصان سے بچنے کے لیے، انہوں نے اس سال اپنی زمین کے کچھ رقبے پر پیاز، آلو، بندگوبی اور گاجر کی کاشت کررکھی ہے۔

 

پاکستان محکمہ موسمیات نے ۲۷ اکتوبر کو ماہ نومبر اور دسمبر میں ملک کے شمال میں واقع بارانی علاقے، جہاں پر بڑے پیمانے پر اکتوبر اور نومبر میں گندم کاشت کی جاتی ہے، میں  تقریباً نہ ہونے کے برابر بارشوں کے متعلق پیشن گوئی کی تھی۔ 

 

تاہم،  محکمے کے ماہرین موسمیات نے کسانوں کے لیے مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہدایات جاری کرکے آگاہ کیا کہ کسی بھی صورت میں موجود پانی کے کاشتکاری کے لیے ہونے والے استعمال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ تاہم بلال خان نے اس پر عمل کرتے ہوئے سبزی کاشت کی، جس کے لیے وہ ساون کی موسم کے دوران علاقے کے تالاب میں بارش کے جمع ہوئے پانی کا استعمال کررہے ہیں۔ 

 

ماہرین موسمیات کہتے ہیں کے سردی کی موسم کی بارشیں برقت شروع ہونے کے حوالے سے عام طور پر اعتبار کن اور ان کے متعلق پیشن گوئی کرنابنسبتاً ساون کی بارشوں کے آسان ہوتا ہے۔

 

مگر ایسے کسان جن کی گندم کاشت کا بارانی علاقے میں بارشوں پر انحصار ہوتا ہے محکمہ موسمیات کی موسم سرما کے شروعاتی مہینوں کے دوران معمول سے کم یا نہ ہونے کے برابر بارشوں کے سلسلے میں برقت موسمی پیشن گوئی کے باوجود گندم کاشت کی ہے انتہائی پریشان ہیں۔ کیونکہ ان کی گندم کی فصل بارشوں کے نہ ہونے سے بری طرح متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔

 

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ۹۰ کلومیٹر کی مسافت پر واقع ضلع چکوال کے گھول گاوں کے گندم کاشت کار محمد خان  نے اس سال نومبر میں اپنے خاندان کی چار ایکڑ رقبے پر دولاکھ روپے گندم کاشت کرنے پر خرچ کیے ہیں۔ مگر اب وہ گندم کی فصل کے بڑھنے کی سست رفتار کو دیکھ کرکافی پریشان ہیں۔ 

 

ان کا بھی کہنا ہے کہ جو فصل نومبر کے آخر تک ۱۲ انچ لمبی ہونی چاہیے تھی وہ تین انچ بھی نہیں ہے۔ جس کا مطلب ہے اپریل میں گندم کی پیداوار میں ۵۰ فیصد سے زیادہ کمی آ سکتی ہے، چاہے جنوری اور فروری کے دوران کتنی بھی بارش ہو۔ 

 

پاکستان میں گندم تقریباً بائیس لاکھ ایکڑرقبے پر کاشت کی جاتی ہے، جس کی ۳۰ فیصد کاشت بارانی علاقے میں ہوتی ہے۔ سالانہ ۲۵ ملین ٹن کے قریب گندم کی پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ پاکستان کے شمال مشرق میں واقع پھوٹوہار کے علاقے میں ہونے والی گندم کے فصل سے حاصل ہونے والی پیداور تین ملین ٹن کے لگ بگ ہے۔

 

ملک میں عام طور پر گندم کی کاشت ۱۵ اکتوبر سے ۱۵ نومبر تک کی جاتی ہے اور اس کے بعد کی جانے والی کاشت سے گندم کی پیداور میں ۳۰ فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ نومبر اور دسمبر میں بارشوں کے دو یا تین سلسلے گندم کی کاشت کے لیے اپریل میں بہتر پیداوار کے حصول کا سبب بنتے ہیں۔

 

محمہ موسمیات کے سربراہ غلام رسول کہتے ہیں کہ موسم سرما کی خوشکسالی کی خاص وجہ وسطی ایشیا کے اوپر ہوائی دباو کا موجود ہونا ہے جس کے نتیجے میں مغرب سے آنے والے بادلوں کا شمالی پاکستان پر نہ ٹھرنا اور اس علاقے پر سے بغیر برسے مزید آگے گذرجانا ہے۔

 

ان کا مزید کہنا ہے کہ  یہی صورتحال، جس کے نتیجے میں موسم سرما میں خوشک سالی کو صورتحا پیدا ہوگئی ہے، سال ۲۰۰۹ میں رونما ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ، اس سال ساون کی بارشوں کاستمبر کے آخری ہفتے کے بجائے ستمبر کے پہلے ہفتے یعنے تقریباً تین ہفتے وقت سے پہلے ختم ہونا ہے۔

 

اس کے علاوہ اسلام آباد اور راولپنڈی ڈویژن کے علاقوں میں ستمبر اور نومبر میں دن کے دوران درجہ حرارت میں معمول سے زیادہ رہنا بھی کسانوں کے لیے سردرد رہا اور کئی کسانوں نے گندم کی کاشت بروقت شروع نہیں کرسکے تھے۔ 

 

چکوال میں واقع بارانی زرعی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر محمد طارق کا کہنا ہے کہ گندم کے کاشت کے مہینوں اکتوبر اور نومبر میں وقت دن کا درجہ حرارت ۲۱ اور ۲۵ ڈگری کے درمیان ہونا چاہیے، جو ۳۰ ڈگری کے لگ بگ رہا۔ ان مہینوں میں معمول سے زیادہ گرم دن سے گندم کے کاشت کیے گئے بیجوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بیج جرمینیٹ نہیں ہوپاتے۔

 

محمد طارق کا کہنا ہے کہ ان کے تحقیقاتی ادارے نے خوشک موسم کے منفی اثرات کو برداشت کرنے والے گندم کے بیج تیار کیے ہیں، مگر موسم سرما کے مکمل طور پر بارشوں کے نہ ہونے والے عمل کا یہ بیج ابھی مقابلا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ایسے بیج کی کاشتکاری کے لیے کچھ نہ کچھ پانی درکار ہوتا ہے۔

 

تاہم روات کے بلال خان کہتے ہیں کہ محکمہ موسمیات کے بارشوں کے دیر سے آنے کی مطعلق بروقت پیشنگوئی کے نتیجے میں جو انہوں کے سبزیاں اُگائی ہیں اس سے اس بے ترتیب موسم کے انکی گندم پر ممکنہطور پر مرتب ہونے  ہونے والے منفی اثرات سے معاشی طوور پر نمٹنے میں مدد ملے گی۔

 

انہون نے مزید کہا کہ برقت موسمیاتی پیشنگوئی ان کے لیے بڑی حد تک مثبت ثابت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے گندم کی کاشت کم کرکے اس سال سبزی کاشت کی جس کے لیے بڑے پیمانے پر پانی کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان سے پیداور پانچ یا چھہ مہینے کے بجائے تین مہینوں میں حاصل ہتی ہے۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.