پاکستان میں چھوٹے کسانوں کا شدید موسمی اثرات سے سامنا

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Tuesday, 28 March 2017 01:02 GMT

Farmer Moeez Assadullah clears weeds from his cauliflower field in Bakrani, a village a few miles from Larkana in southern Sindh province, Pakistan. Thomson Reuters Foundation/Saleem Shaikh

Image Caption and Rights Information
Many farmers are adopting drip irrigation and laser levelling to conserve water, but costs for these technologies are out of reach for poor farmers

باکرانی، پاکستان [تھامسن رائٹرزفاؤنڈیشن] ۔ سال دوہزار گیارہ میں اپنے والد کے انتقال کے بعد، معیزاسداللہ خاندانی زمینوں کی تنہا دیکھ بھال کر رہا ہے۔ 

 

تقریباً چھہ سالوں سے، اکیس سالہ نوجوان کسان بڑے دوبھائیوں کی مدد کے بغیر ہی سات ایکڑ پر مشتمل زرعی زمین پر کاشتکاری کررہا ہے ۔

 

پانچ سال پہلے، ان کے بھائیوں نے کاشتکاری میں اس وقت عدم دلچسپی محسوس کرنے لگے جب موسمیں آہستہ آہستہ بےترتیب اور بے اعتبار ہونا شروع ہوئیں اور ٖفصلوں سے آمدنی کم ہونا شروع ہونے لگیں ۔ اسداللہ کے دوبھائی اب سندھ کے شہر لاڑکانہ، جو ان کے گاؤں باکرانی سے تھوڑی سی مصافحت پر واقع ہے، میں ایک اینٹوں کے بٹھے پر کام کرتے ہیں ۔ تاہم معیز اسداللہ عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے فصلوں پر منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک پلان ترتیب دیا اور اس کو اپنی زرعی زمین پر آزمایا۔ 

 

اس پلان کے تحت، تین سال پہلے انہوں نے اپنی زرعی رقبے پر چاول کاشت کرنا روک دیا ۔ کیونکہ اکیلے اسد اللہ کے لیئے چاول کی کاشت انتہائی کٹھن ہونے کے ساتھ ساتھ طویل دورانیے کا فصل تھا اور اس کے لیے دوسرے سبزی جیسے فصلوں کے بر عکس زیادہ پانی درکار ہوتا ہے جس کی ان کے علاقے میں کچھ سالوں سے شدید قلت واقع ہورہی ہے۔ کمزور مالی حالت کے باعث، وہ اس فصل کے کاشت کے لیے مزدوروں کی تنخواہ برداشت کرنے سے بھی قاصر تھے۔ 

 

اب وہ سات ایکٹر زمین پرمولی، گاجر، کھیرا، پالک اور ٹماٹر جیسی سبزیا ں کاشت کرتا ہے جن کی کاشت کے لیے چاولوں کی کاشت کے برعکس تقریباً آدھے سے بھی کم پانی درکار ہوتا ہے اور تین ماہ میں تیار ہوجاتی ہیں ۔ 

 

پاکستان میں معیز اسداللہ جیسے ہزاروں چھوٹے چاول کاشت کار بے ترتیب اور بے اعتبار ہوتی ہوئی موسموں اور بارشوں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث بار بار سیلاب کے واقعات سے تنگ آکر چاول کی کاشت کو آہستہ آہستہ خیرآباد کہنے پر مجبور ہیں، اور اس کی جگہ سبزیوں کی کاشت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم کم تعلیم اور کمزور مالی حالات کی وجہ سے وہ ان موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر منفی اثرات سے نمٹنے میں کم ہی کامیاب ہورہے ہیں اور ان کسانوں کی بھاری معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ 

 

زرعی ماہرین کہتے ہیں کہ غریب اور چھوٹے کسانوں کے برعکس، بڑے، تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط زمینداراپنی مدد آپ کی بنیاد پر مختلف ٹیکنالاجی، بہتر بھیج، نئے زرعی آلات اور واٹر کنزرویشن کے مقصد کے لیے استعمال ہونے والی ڈرپ اریگیشن جیسی جدید ٹیکنالاجی تک رسائی ہونے کے بدولت ان موسمی اثرات سے نمٹنے اور ان سے مطابقت پذیری رکھنے میں کافی حد تک کامیاب ہورہے ہیں۔ 

 

پنجاب صوبے کے وہاڑی ضلعے میں واقع کامسئٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالاجی کے موسمیاتی تبدیلی کے پاکستانی زراعت پر تحقیق کرنے والے زرعی سائنسدان خدا بخش کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسی فیصد سے زیادہ فصلوں کی کاشت چھوٹے کسان کرتے ہیں۔ تاہم، ان کا موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے قابل نے ہونے کے نتیجے میں ملکی زراعت کمزور پڑسکتی ہے اور زرعی ایراضی میں کمی واقع ہوسکتی ہے جس سے ملک میں خوراک کی قلت، دیہی غربت اور کسان کا زراعت کو خیرباد کہنے سے بے روزگاری میں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

 

انہوں نے مزید خبردار کیا ہے کہ اس سے پائیدار زاعت، فوڈ سکیورٹی، غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے حکومتی منصوبوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ پاکستان میں زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے مختلف تباہ کن اثرات جیسے گرتی ہوئی زرعی پیداوار اور بارشوں کی بے ترتیبی اور بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غریب اور چھوٹے کسانوں کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے درکار مالی و تکنیکی تعلیم کی فراہمی ناگزیر ہے۔

 

تاہم نوجوان کاشتکار معیز اسداللہ کہتے ہیں کہ ان کے لاڑکانہ کے قریب باکرانی گاؤں میں اور اس کے آس پاس میں امیر اور تعلیم یافتہ کاشتکار ان کے علاقے میں بے ترتیب بارشوں کی کمی کا سامنا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈرپ اریگیشن اور زمین کو ہموار کرنے کے لیے لیزر ٹیکنالاجی ، جس سے آبپاشی میں پچاس فیصد کے استعمال میں کمی آتی ہے، استعمال کررہے ہیں۔ مگر ہم جیسے چھوٹے ، غیر تعلیم یافتہ اور کمزور معاشی حالت والے کسانوں کیلئے اس مہنگی ٹیکنالاجی تک رسائی صرف خواب ہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ڈہائی ایکڑ کے لی ڈرپ اریگشن سسٹم لگانے کے لیے تقریباً ستر ہزار لاگت آتی ہے، جو ہم جیسے غریب اور چھوٹے کسانوں کے لیے برداشت کرنا ناممکن ہے۔ 

 

اُدھر لاڑکانہ سے اسی کلومیٹر دور مشرق میں خیرپور میرس ضلعے میں اٹھتیس سالہ کاشتکار نواز سومرو اپنے علاقے میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں میں کمی واقع ہونے کے آبپاشی نظام پرمنفی اثرات سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اپنی تقریباً دو سو ایکڑ پر کپاس اور چاولوں کی بہتر پیداوار حاصل کرنے اور آبپاشی کی کم یابی جیسے مسائل پر قابو پانے کے لے ڈرپ اریگیشن اور زرعی زمین کی ہمواری کے لیے جدید لیزر ٹیکنالاجی کا استعمال کر رہا ہے۔ 

 

نواز سومرو کہتے ہیں کہ انہوں نے اس جدید ٹیکنالاجی کے متعلق اور اس کے استعمال کے حوالے سے آگاہی فیصل آباد زرعی یونیورسٹی میں اپنی چارسالہ پروگرام کے دوران وہا ں کے اساتذہ سے حاصل کی تھی، جو تعلیم اور بہتر معاشی حالات کے باعث استعمال کرنے میں کامیاب رہے۔ 

 

نواز سومرو مزید کہتے ہیں کہ ان کے والد سال دوہزار بارہ تک کپاس اور چاولوں کی مقامی بیجوں کی اجناس ہی استعمال کرتے رہے ہیں، تاہم ان اجناس سے علاقے میں موسمایتی تبدیلی کے باعث آبپاشی کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے پیداور میں اضافہ حاصل کرنا ناممکن تھا۔تاہم ان کے لیے،بہتر آبپاشی اور نئے نامیاتی بیجوں کی اجناس کے استعمال سے کپاس اور چاولوں کی پیداوار میں تیس سے چالیس فیصد اضافہ ممکن ہوسکا ہے۔ 

 

ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کے زرعی پیداوار میں اضافہ دیکھ کر کئی کسانوں ان سے اب رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

 

اسلام آباد میں واقع پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کاؤنسل میں علی اکبر مکئی اور گندم کے بیجوں پرپر کام کرنے والے بین الاقوامی تحقیقی ادارے کے دفتر میں زرعی سائنسدان کے طور پر کام کررہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں چھوٹے ، کم یا غیر تعلیم یافتہ اور غریب کسان موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر منفی اثرات سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہورہے ہیں۔ تاہم حکومتی سطح پر ایسے منصبوے شروع کرنی کی اشد ضرورت ہے ، جس کے باعث ان چھوٹے کسانوں کی جدید ٹیکنالاجی اور بہتر زرعی اور بیجوں تک رسائی ممکن ہوسکے اور موسم اور بارشوں میں رونما ہونے والی تبدیلی کے مطابق اپنی کاشتکاری کی اوقات کار میں تبدیلی لاسکیں اور ان کے منفی اثرات پر قابو پاسکیں۔ 

 

اس سلسلے میں، اس ٹیکنالاجی تک رسائی کے لیے آسان شراعت پر قرضے اور آگاہی بڑی حد تک مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے ملکی زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے کافی حد تک بچایا جاسکتا ہے ، جس سے دیہی ترقی ، غربت ، بھوک کو کم یا ان پر قابو پانے کے حکومتی اہداف حاصل کرنا بڑی حد تک آسان اور ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ 

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.