ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں نقل مکانی بڑھنے کا خدشہ: ماہرین

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Thursday, 26 November 2015 06:49 GMT

Farhan Yusuf, one of the sons of fisherman Muhammad Yusuf, stands near the family home on Hajamaro island, off the coast of southern Pakistan. TRF/Aamir Saeed

Image Caption and Rights Information

A lack of adaptation to climate change means more families are on the move - or worse, left behind

ٹھٹھہ، پاکستان (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) ۔۔۔ ماہی گیر محمد یوسف کا خاندان صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی علاقہ کے ہجامڑو جزیرہ پر کئی نسلوں سے آباد ہے۔ کسی زمانے میں یہ علاقہ بہت خوشحال تھا، لیکن اب سمندری طوفان اور سطح سمندر میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے اب یہ اپنی خوشحالی کھوچکا ہے۔

ؐؐباسٹھ سالہ یوسف کا کہنا ہے کہ سمندری طوفانوں نے اسکے گھر کو بہت نقصان پہنچایا ہے اورمچھلیوں کی تعداد میں بھی بہت کمی ہو گئی ہے جبکہ اسکی دو بیٹیاں ہیضہ کا شکار ہو کر مر چکی ہیں۔ دوسرے بچے بھی آئے روز بیمار رہتے ہیں لیکن انہیں ڈاکٹر تک لے جانے کے لئے اسکے پاس پیسے نہیں ہوتے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر اسکے پاس وسائل ہوتے تو وہ ماہی گیری چھوڑ کر پانچ سال پہلے ہی ٹھٹھہ شہر منتقل ہو گیا ہوتاکیونکہ یہاں زندگی گزارنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، پینے کا پانی بھی ٹھٹھہ شہر سے لانا پڑتا ہے لیکن وہ بھی اب نمکین ہوتا جا رہا ہے، لوگ کھارا پانی ہی پینے پر مجبور ہیں کیونکہ وہ میٹھا پانی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

یوسف کی طرح دیگر ساٹھ خاندان بھی کیٹی بندر کے ایک درجن سے زائدمختلف جزیروں پر زندگی بسر کرنے پر مجبورہیں۔ پاکستان میں بہت سارے خاندان ماحولیاتی تبدیلیوں، سمندر کی سطح میں اضافے ، خشک سالی اور سیلاب کی وجہ سے پریشانی اور مسائل کا شکار ہیں۔ ان میں سے جو مالی طور پر بہتر ہیں وہ ماحولیاتی تبدیلی کا شکار علاقوں سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر جاتے ہیں ۔لیکن جو استطاعت نہیں رکھتے وہ ان علاقوں میں ہی رہ کر اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبورہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تو اس مسئلہ کی ابتدا ہے اور اگر اسکے فوری حل پر توجہ نہ دی گئی توصورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔یوسف کی بیوی پارتو بھری کا کہنا ہے کہ اسکے چار، دس اور بارہ سال کے تین بیٹے بیمار ہیں لیکن وہ دعاکے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکتی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، سال دوہزارپچاس تک پاکستان اور بنگلہ دیش میں موسمیاتی تبدیلیوں مثلا سیلاب اور قحط سے متاثر ہونے والے علاقوں میں رہنے والوں کی تعداد دوکروڑ پچاس لاکھ ہو جائے گی، ایسے علاقے کے لوگوں کو دوسرے علاقوں میں بسانا ایک چیلنج سے کم نہ ہو گا۔
وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے سیکرٹری عارف احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین حکومت کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی سہولیات جیسے غذا، گھر اور تعلیم فراہم کرے، تاہم حکام سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے متاثر ہونے والوں کو تو معاوضہ اداکرتے ہیں لیکن ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کو دوبارہ بسانے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

اسلام آباد کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے قومی رابطہ کار سرور باری کا کہنا ہے کہ قحط، سیلاب اور بارشوں کے باعث نقل مکانی کی شرح آئندہ سالوں میں کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ انکا مزیدکہنا ہے کہ حکومت اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے اسے قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنائے اور متاثرہ لوگوں کی مالی مدد بھی کرے۔

آکسفم نووب کے غذائی تحفظ کے ماہر شفقت عزیز کا کہنا ہے کہ شہروں کی جانب نقل مکانی کے باعث پہلے سے ہی گنجان آباد شہروں کے وسائل پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔ حکومت کو ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہونے والے ممکنہ علاقوں کا ڈیٹا حاصل کرنا چاہیے اور اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ایک مربوط پالیسی بھی بنانے کی ضرورت ہے۔

انکا مزید کہنا ہے کہ ایسے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ماحولیاتی تبدیلی کے حوالہ سے آگہی دینا بھی بے حد ضروری ہے، موثر تعلیم اور آگہی سے لوگ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسا کی سیلاب، قحط اور زلزلہ سے نمٹنا سیکھ سکیں گے اور اپنے ذرائع آمدنی کو محفوظ کرنے کے قابل بھی ہو سکیں گے۔

تاہم ہجامڑو جزیرہ پر موجود یوسف کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اس تک کوئی بروقت مدد پہنچ پائے گی،اسکا کہنا ہے کہ سطح سمندر میں اضافے نے اسکے گھر، روزگار اور بچوں کو نگلنا شروع کر دیا ہے اور شاید قدرت کے ہاتھوں تباہ ہونا ہی انکے مقدر میں لکھا ہے۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.