اسلام آباد[تھامسن رائٹرزفائونڈیشن]۔۔۔ بے ترتیب اور بے اعتبار بارشوں نے سردار محمد کے لیے دھان کی بہتر پیداور حاصل کرنا خاصہ مشکل کردیا ہے۔ 

 

مگراب قلت آب کے باعث دھان کے بیج کو براہ راست زمین میں لگانے سے اس کسان کے لیے سود مند ثابت ہورہا ہے۔ عام طور پر کاشتکار دھان کے پودے تیار زمین میں لگانے سے پہلے کچھ ہفتوں پہلے نرسری تیار کرتے ہیں، جو پانی کی موجودگی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث خاصہ مشکل ہوتا جارہا ہے۔ 

 

سردار محمد کہتے ہیں کہ دھان کی اس جدید کاشت سے مزدوری اور آبپاشی کا کم استعمال ممکن ہوگیا ہے۔ اس جدید طریقے سے، دھان کی نرسری تیار کرنے کے بجائے اب دھان کا بیج براہ راست تیارگیلی زمین میں لگاکر کم پانی سے بہتر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس طرنئے طریقے کی بدولت مسلسل پانی کھڑے کرنے کی ضروت نہیں ہوتی۔

 

صوبے پنجاب میں، اب تک تقریباً اٹھتالیس ہیکٹرز پر تیس کسانوں نےدھان کاشتکاری کے اس جدید طریقے کو اپنایا ہے، جس کے بدولت تقریباً تیس فیصد پانی کی بچت ہونے کے علاوہ پندرہ سے بیس دن پہلے فصل تیار ہوجاتی ہے۔

 

پاکستان میں دھان کے فصل سے ایک کلو چاول کی پیداوار حاصل کرنے کے لیے تین ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا ہے، جو لوگوں کے لیے خوراک کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی کی نتیجے میں پانی کی دستیابی میں مسلسل کمی کے تناظر میں پرانے طریقے سے دھان کی کاشت کو جاری رکھنا مشکل تر ہوگیا ہے۔ 

 

پاکستان کی پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق، ۱۹۵۱ء میں ایک آدمی کے لیے تقریباً پانچ ہزار کیوبک میٹر سے زیادہ پانی موجود ہوتا تھا۔ سال ۲۰۱۰ء میں کی سطح ایک ہزار کیوبک میٹر تک گرگئی۔ یہ سطح سال ۲۰۲۵ء تک، جب آبادی ۲۲۱ملین ہوجائے گی، مزید آٹھ سو کیوبک میٹر تک آنے کا اندیشہ ہے۔

 

اس صورتحال کے پیش نظر، بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ملک میں ایسے نئے طریقے اپنانے ہونگے جس کی مدد سے کم پانی سے زیادہ زرعی پیداوار حاصل کی جاسکے۔ کیونکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے وقت میں موسمییاتی تبدیلی کے نتیجے میں بارشیں متاثر ہونگی اور زیر زمین پانی کی سطح میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

 

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، دھان کے بیج کی تیار زمین میں براہ راست لگانا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

 

پنجاب کے شیخوپورہ ضلع میں، سردار محمد اپنے پندرہ ہیکٹرز پر دھان کی کاشت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے دھان کے اس جدید طریقے کی مدد سے آبپاشی کے استعمال میں چالیس فیصد تک کی بچت ممکن ہے۔ جس سے زیر زمین پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال میں اضآفے کو کم کیا جاستکا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ دھان کی کشت کے دوران چالیس فیصد پانی کی بچت کوئی معمولی فائدہ نہیں ہے۔ اس نئے طریقے سے کشان پانی کی کم یابی کے منفی اثرات کو کم کرسکتے ہیں اور یہ ایک بہترین مطابقت پذیری یا اڈپٹیشن پے۔

 

سردار محمد نے دھان کاشت کے اس نئے طریقے کی تربیت کے دوران سیکھا تھا، جو یو-ایس-ائیڈ  اور انٹرنیشنل رائیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اشتراک سے سال ۲۰۱۳ء میں تیس ملین ڈالرز کی لاگت سے شروع ہونے والے پانچ سالہ ایگریکلچرل انوویشن پروگرام کے تحت منعقد کی گئی۔

 

یو-ایس-ایڈ کے جان گرورک کے مطابق، اس پروگرام کا خاص مقصد پاکستان میں کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر منفی اثرات سے بچانے کے علاوہ کاشتکاری سے حاصل ہونے والے ان کے آمدنی میں اضافہ کرنا اور آبپاشی کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا ہے۔

 

ان کا مزید کہنا ہے اس پروگرام کے تحت درجہ حرارت میں اضافے سے مطابق پذیری رکھنے والے مکئی کے بہتر بیج اور زیادہ پیداوار دینے والے گندم کے بیج کو پاکستان میں متعارف کرانا اہم مقاصد میں شامل ہے۔

 

ایگری فورم پاکستان کے محمد ابراہمی مغل کہتے ہیں کہ ٹریڈیشنل طریقے سے دھان کی کاشت ایک کٹھن کام ہے، جس سےآبپاشی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم، دھان کی کاشت اس لیے بھی مشکل ہوتی جارہی ہے کہ دریاوں کے بہاوں اور زیر زمین کے پانی کی سطح میں  بارشوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کے نتیجے میں، کاشتکاری کے لیے پانی کی دستیابی سنجیدہ مسئلے بن گئے ہیں۔

 

اس صورتحال کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے کسان اب کاشتکاری کے نئے طریقوں کی طرف جانا چارہے ہیں جس سے کم پانی اور بہتر زرعی بیج سے زیادہ پیداوار حاصل ہوسکے۔ تاکہ وہ زراعت کو خیرباد کہنے کے بجائے اپنے اس اہم ذریعہ معاشی کو جاری رکھ کر پائیدار بناسکیں۔

 

پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کائونسل کے چئرمین افتخار کہتے ہیں کے دھان کے بیج کی براہ راست کاشت سے چاول کی پیداوار میں پچیس فیصد تک اضافہ حاصل کرنا ممکن ہے۔

Topics
fod-env fod-env