اسلام آباد [تھامسن رائٹرزفائونڈیشن] — اٹھائیس اپریل کی رات ۲۸ گھنٹے مسلسل ہونے والی بارش کے رکنے کے بعد اپنے دو بھائیوں کے ہمرا نور حسین اپنی تین ہیکٹرز پر محیط  کھڑی گندم کو ہونے والے نقصان کا جائزہ لے نے کے لیے گھر سے نکے تھے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران تھے کے جو فصل تیزی سے پک رہی تھی وہ تقریباً ۸۰ فیصد تباہ ہوچکی تھی۔ 

 

وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے میں واقع اپنے زمین کے ایک کونے پر افسردہ کھڑے تھے۔ حیران کن تیز بارش اور بے موسمی زالہ باری سے گندم کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے، انکے چہرے پرپریشانی کا مظہر تھا۔

 

انہوں نے تھامسن رائٹرزفائونڈیشن کو متوجہ کرتے ہوئے کہا، “دیکھیئے گندم کو اور کس طرح ان کے اسپائیکس زالا باری اور تیز بارش کی وجہ سے ٹوٹ چُکے ہیں۔ صرف وہ گندم کا حصہ بچ گیا ہے جو زمین کے درمیان تھی۔”

 

نور حسین کے مطابق، انکی تقریباً ۷۰ فیصد فصل تباہ ہوچکی ہے۔

 

ملک کے دوسرے علاوقوں میں بھی موسم سرما کے فصل کاشت کرنے والے کسانوں کی حالت نور حسین سے کسی بھی طرح مختلف نہیں ہے، کیونکہ دوسرے صوبے خاص کر پنجاب، خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان میں غیر اہم طورپر شدید اور بے موسم بارشیں اور طویل دورانیے کی سردی نے گندم، مکئی اور مسٹرڈ کی فصل کو کافی نقصان رسایا ہے۔

 

مقروض اوربے ہنگم بارشوں سے لڑتے لڑتے تھک کر ہارے ہوئے کسانوں نے اب کاشتکاری کو خیرباد کہکر پولٹری اور کیلٹل فارمنگ کو اپنارہے ہیں۔

 

نور حسین کہتے ہیں کہ بھلا کوئی بھی کیسے اس طرح کاشت کاری جاری رکھ سکتا ہے جب موسمیں لگاتار بے ترتیب، بے اعتبار اور بے ہنگم اور تباہی کا باعث بن رہی ہوں۔ تاہم انہوں نے فیصلہ کی ہے کہ وہ اب ایک ہیکٹر پر گندم اگائیں گے اور بقیہ دو ہیکٹرز پر پولٹری اور کیٹل فارمنگ کریں گے۔

 

 پولٹری اور کیٹل فارمنگ میں اضافہ

 

اسلام آباد کے جنوبی مشرق میں واقع کئ اضلاع سے کسانوں نے اس نمائندے کو بتایا کہ اس سال موسم سرما میں دیر سے آنے والی شدید بارشیں اور زالاباری نے تقریباً گندم کے علاوہ مکئی کی فصل کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔

 

چالیس سالہ کسان مجتبا خان کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس کاشتکاری کے لیے ادھار پر لیے گئے گندم کے بیج اور فرٹیلائیز کے قرض سے نجات حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس سواءِ اینٹوں کے بٹھے پر روزانہ اجرت پر مزدوری کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ انہوں نے آنسو پونچتے ہوئے مزید کہا کہ کم سے کم آنے والے تین سالوں میں ان کے لیے واپس کاشتکاری کی جانب واپس جانا مشکل ہے، کیونکہ انکی پہلی ترجیح قرض سے نجات حاصل کرنا ہے۔

 

پنجاب صوبے سے تیس سے زائد کسانوں نے اس نمائندے کوٹیلی فون پر بتایا کہ ان میں سے کئی کاشتکارون نے کاشت کاری میں کمی کردی ہے اور اب وہ آہستہ آہستہ پولٹری یا کیٹل فارمنگ کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔ 

 

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دفعہ بارشیں تقریباً تین ہفتے دیر سے آئیں ہیں، جس کی وجہ سے گندم کے علاوہ موسم سرما کی دوسری فصل کے پکنے میں دیر ہوئی ہے۔ اور اس دفعہ بارشوں کی موسم طویل ہونے کی وجہ سے فصلوں پر مختلف کیڑوں کے حملے ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے گندم کے دانے کی تیاری متاثر ہوئی ہے۔ 

 

پاکستان ایگری فورم کے چیرمین، ابراہیم مغل، کے مطابق، دیر سے آنے والی بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے پنجاب، خیبرپختونخواہ صوبوں میں  گند م، مکئی اور مسٹرڈ کی پیداوار میں تقریباً ۵۰ فیصد کمی ہونے کا اندیشا ہے۔ ان صوبوں میں ملک کی کُل گندم پیداوار کا ۶۵ فیصد حاصل ہوتا ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اگر بارشیں فصل کے کاٹنے کی موسم شروع ہونے سے ایک مھینا پہلے، یعنے اپریل سے لیکر مئی کی درمیان تک، ہو تو یہ فصلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

 

وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے اس سال کے لیے گندم کی پیداوار کا چھبیس عشاریہ تین ملین ٹن کا ہدف رکھا تھا۔ مگر، اب وفاقی وزارت برائے زارعت اور فوڈ سکیورٹی کے افسران اس کے مطلق غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔

 

اس وفاقی وزارت کے وزیر سکندر حیات بوسان کہتے ہیں کہ اس سال تقریباً تین ملین ٹن ہدف سے کم پیداور ہوگی۔

Topics
Adapting to Climate Change Climate Change General Climate Security Extreme Weather fod-env fod-gen hum-hun