ریشم کے کیڑے کشمیری کاشتکاروں کے لئےمتبادل زرائع آمدن ثابت ہورہے ہیں

by Roshan Din Shad | Thomson Reuters Foundation
Friday, 12 July 2013 00:45 GMT

A farmer inspects his silkworm crop in Pakistan-administered Kashmir. THOMSON REUTERS FOUNDATION/Roshan Din Shad

Image Caption and Rights Information

Farmers are reviving Kashmir's silk industry as a way of increasing their resilience to erratic weather that is threatening their crops

 

اپر امبور، پاکستان (تھامسن را رائٹرز فاؤنڈیشن) - نصف صدی سے زائد عرصے تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ریشم کے کیڑے پال کرمشکل معاشی حالات کا سامنا کیا جاتا تھا۔لیکن۵ ۰۰ ۲کے تبا ہ کن زلزلے سے محکمہ ابریشم کی عمارتوں کے تباہ ہونے سے ریشم کی صعنت کو شدید دھچکا لگا ہے-
تاہم کئی سالوں سے جاری غیر یقینی موسمی حالات کی وجہ سے دباؤ کا شکار فصلوں کے باعث کسان اپنی آمدن بڑھانے کے لیے دوبارہ ریشیم کے کیڑے پالنے کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔
توت کے پتوں پر پلنے والے یہ کیڑوں ۳۰ ایام میں فصل دیتے ہیں جو کسانوں کے لیے لائف لائن کی حثیت رکھتی ہے ۔۔ ان کو پالنے کے لیے فالتو کمرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے دارالحکومت مظفرآباد سے ۵ کلومیٹر دور پہاڑی پر واقع اپر امبور گاؤں کے کسان محمد نیاز کہتے ہیں کہ ہم غریب لوگ ہیں اور ریشم کے کیڑے پال کرگزارہ کرنے کے علاوہ ہمارے پاس آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔خاندان کے چھ افرادس کی کفالت کے ذمہ دار نے  تھامسن را رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے غلہ اگایا جاسکتا ہے نہ سبزی اور نہ ہی پھل۔
محمد نیاز نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بڑتے ہوئے غیر یقینی موسمی حالات نے مقامی کسانوں کو روزی کمانے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔انکا مشاہدہ ہے کہ آب وہواکی تبدیلی نے پہاڑی علاقوں میں بارش پر منحصر زراعت کوشدید متاثر کیا ہے ۔ 
ایک عشرہ قبل تک جب بارشیں معمول کے مطابق ہواکرتی تھی تو یہ پہاڑی کسان گرمیوں میں مکئی اور سردیوں میں گندم اگاتے تھے ۔لیکن ا ب موسم میں تبدیلی کی وجہ سے زمین سے ان کو مویشیوں کے چارہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔مقامی لوگوں کیکہتے ہیں کہ اب علاقے میں مجموعی طور پر کم اور ناقابل اعتبار بارش ہورہی ہے 
ماہر زراعت خواجہ محمد خورشید کے مطابق بارشوں کے نظام میں بڑتی ہوئی بے قاعدگی نے ہمالیائی خطے کے مزید کئی کسانوں کو فصلیں ضائع ہونے کی وجہ سے غربت کے اندھروں میں دھکیل دیا ہے۔وہ کم وقت میں نفع دینے والے ریشم کے کیڑے پالنے سمیت آمدن کے دوسرے مواقع کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
۳۵سالہ نیاز کو ابریشم سازی کے لیے کیڑے پالنے کاکام والد سے روثے میں ملاہے۔لیکن ان دنوں وہ کافی تعداد میں کیڑے پالنے کے لیے جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بددل ہے۔اس کے پاس سر سبز پہاڑی پر واقع تین کمروں کے مکان میں ایک کمرے میں ریشم کے ۴۰ ہزار کیڑے ہیں ۔
رشیم کے کیڑوں سے بھری توت کی سبز ٹہنیوں سے لدھے لوہے کے اسٹینڈوں کے قریب کرسی لگائے بیٹھی نیاز کی ۸۴سالہ ماں محمد جان بتاتی ہیں کہ کیسیکہ انہوں نے زندہ رہنے کے لیے کیسے یہ کام شروع کیا۔
میرے شوہر نے ۱۹۷۰میں ریشمی کیڑے سے پیدا ہونے والی کوکون بیچ کر گندم خرید کر لائی جس سے ہمارے ۱۵افراد کے خاندان کی چھ ماہ تک ایک ایسے مشکل وقت میں ہماری ضرورت پوری ہوئی جب ہمارے پاس غربت کی وجہ سے کھانے کو کچھ نہ تھا ۔یہ وہ چیز تھی جس نے ہمیں ریشم کے کیڑے پالنے پر ابھارہ،انہوں نےیہ اپنی سہارہ دینے والی چھڑی پر جھکتے ہوئے تھامسن را رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا۔

۱۹۹۰کی دھائی کا عروج
ریشم سازی کا شعبہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ۱۹۵۲میں متعارف کروایا گیاجس کا مقصد غریب ، بے زمین ، چھوٹے کسانوں اور بالخصوص دیہی خواتین کو آمدن بڑھانے کا زریعہ مہیاکرنا تھا۔
محکمہ ابریشم کے سابق ناظم ظفر اقبال کہتےہیں کہ ریشم سازی کی صعنت ۱۹۹۰کی دھائی میں حکومت کی طرف سے دیہی علاقوں میں لو گوں کوکیڑے پالنے کی طرف راغب کرنے کے لیے سالانہ توت کے لاکھوں پودے ،کیڑوں کے معیاری انڈے اور کھاد کسانوں میں مفت تقسیم کر نے کی وجہ سے عروج پر تھی۔

لیکن اکتوبر۵ ۲۰۰کے زلزلے نے ۷۵۰۰۰افراد کو لقمہء اجل بنانے کے علاوہ اس صعنت کو بھی تباہ کر دیا ۔
اقبال کہتے ہیں کہ ہم۵ ۲۰۰کے زلزلے تک ہر سال ۹۰سے ۱۰۰ ٹن کوکون بیچا کرتے تھے لیکن زلزلے نے ریشم سازی کے بنیادی ڈھانچے کوہی تباہ کر دیا۔
زلزے نے تحققی مرکز ، سات کرم کش حال ،گیارہ دفاتر کو تباہ کر نے کے علاوہ وسیع پیمانے پر محکمہ کی عمارات کو نقصان پہنچایا۔جس کے باعث انڈوں کی پیداوار اور کیڑوں کی نشونما کا عمل ختم ہونے سے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں کے افراد کا روزی کمانے کا زریعہ متاثر ہو ا۔
محکمہ ابریشم کے انٹمالوجسٹ محمد رضوان اللہ بتاتے ہیں کہ آزاد جموں کشمیر پاکستان اور افغانستان کو ریشم پیدا کر نے والے کیڑوں کے انڈے مہیا کرتا تھا لیکن زلزلے کے بعد بیج کی پیداوار میں تین تہائی کم ہو گئی۔
محکمہ ابریشم کی عمارات کی تعمیر نو ابھی تک نہیں کی جاسکی اور توت نرسریوں میں سے کچھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے حوالے کر دی گئی ہیں ۔اقبال اس پر یقین رکھتے ہیں ریشم سازی کے فروغ کے لیے تمام سرکاری زمین پرتوت کر درخت لگائے جائیں ۔ 
اگر ریشم سازی کی صعنت اپنے پاوءں پر دوبارہ کھڑی ہوتی ہے تو اسکے غریب لوگوں پرواقع بہتر مالی اثرات مرتب ہونگے ۔ھٹیاں بالا کے گاؤں سرائی کی مثال دیتے ہوئے اقبال نے کہا کہ زلزے سے قبل اس گاؤں کے کسانوں کی ریشم کے کیڑوں سے ایک ماہ میں حاصل ہونے والی آمدن چھ ماہ کی محنت سے حاصل ہونے والی فصل سے زیادہ تھی ۔


نئی نرسریاں 
 لیکن زلزلے کے بعد لوگوں کے گھر جس انداز میں دوبارہ تعمیر کیے گئے ہیں کہ اب ان میں اتنے کیڑے نہیں پالے جا سکتے جتنے کچھ کسان چاہتے ہیں ۔
محکمہ ابریشم کے فیلڈ معاون ذاکر حسین وضاحت کی کہ زلزلے سے قبل لوگوں کے پاس کچے گھر تھے جن میں بڑے بڑے حال اور کمرے تھے جو ریشم کے کیڑے پالنے کے لیے بہت موزوں تھے۔جن کی جگہ کنکریٹ اور جستی چادر چھت والے دو کمروں پر مشتمل گھرتعمیر کیے گئے ہیں جو بہت چھوٹے بھی ہیں اور گرم بھی اس وجہ سے کرم بانی کے لیے موزوں نہیں ہیں ۔
محکمہ ابریشم کی مظفرآباد سے۴۵کلومیٹر دور کچھاگاؤں میں واقع نرسری کے قریب مقیم ۳۵سالہ ناز کاظمی کہتی ہیں کہ وہ اپنے خاندان کی پرورش کے لیے ۴ پیکٹ بیج یعنی ۸۰ہزار کیڑے پالنا چاہتی تھی لیکن جگہ کی تنگی کی وجہ سے صرف ایک پیکٹ پال سکی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ صعنت کے ڈپٹی سیکرٹری غلام حسین قریشی کہتے ہیں کہ محکمہ بجٹ خسارے کی وجہ سے ابریشم سازی کے فروغ نظرانداز کیا گیاہے ۔
قریشی کہتے ہیں کہ حکومت سڑکوں اور سکولوں کی تعمیرپر توجہ دے رہی ہے اور ابرشم کی طرح کے چھوٹے محکمے اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں ۔تاہم وہ کہتے ہیں کہ بجٹ میں کچھ نیے منصوبے رکھے گئے ہیں جن میں توت کی نرسریوں کی ترقی بھی شامل ہیں۔ 
ماہرین کا خیال ہے کہ ریشم سازی کی صعنت کے اخیاء سے خطے کے تیزی سے ختم ہوتے ہوئے جنگلات پر دباؤ کم ہوگااور آمدن کے لیے جنگل کاٹنے والوں کو آمدن کا متبادل زریعہ حاصل ہوگا۔
خطے کے تحفظ جنگلات کے سربراہ خضرحیات کے خیال میں اس صعنت کی بحالی سے قدرتی ماحول اور جنگلات پر اچھا اثر پڑیگا

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.