پاکستان میں ٹمبر مافیا جنگلات کے لیے بڑا خطرہ ہے - ماحولیاتی ماہرین

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Wednesday, 29 January 2014 09:15 GMT

Pakistan's timber gangs operate freely in many parts of the country, profiting from illegal logging often with the backing of local officials - and that poses a big problem for fledgling efforts to stem deforestation, forest experts say

چلاس، پاکستان [تھامسن رائٹرزفائونڈیشن] - شمالی صوبے گلگت بلتستان میں دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع چلاس تعلقہ غیرقانونی درختوں کی کٹائی اور اس کی اسمگلنگ کے لیے مشہورہے۔

 

اسلام آباد سے تقریباً 132 میل دورشمال میں واقع چلاس کے مقامی ماحولیاتی ماہرغلام علی کا کہنا ہےکہ کسی بھی طرح کنزرویشن کے سلسلے میں ہونے والی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک حکومت ان ٹمبر مافیا کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کرتی، جو بے درییخ درختوں کا صفایا کرتے جارہے ہیں۔

 

علی کہتے ہیں درختوں کی اس طرح بڑے پیمانے پر غیرقانوںی کٹائی کی وجہ سے علاقے کے درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ گرمی کے موسم مزید گرم اور ان کے دورانیے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ بارشیوں کے موسم بھی گھٹ رہے ہیں اور لینڈسلائیڈنگ عام ہوتی جارہی ہیں۔ 

 

اقوام متحدہ کی ذیلی ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق، پاکستان میں ہر سال تقریباً 43000 ہیکٹرز پرکھڑے جنگلاتوں کی کٹائی ہورہی ہے۔ 

 

چلاس کے علی کہتے ہیں کہ ٹمبرمافیا محکمہ جنگلات کی افسران کی سرپرستی میں ان جنگلات کی غیرقانونی بلاروک ٹوک کٹائی کرتے جارہے ہیں۔ اس سرپرستی کی وجہ سے یہ ٹمبر مافیا اور مضبوط ہوئی ہے۔

 

مگر مقامی محکمہ جنگلات کے افسران ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ چلاس میں ڈویژنل فاریسٹ آفیس میں ایک افسر محمد سلیم کہتے ہیں کہ ان کے محکمے نے ٹمبر مافیا کو علاقے سے بے دخل کردیا ہے۔ تاہم وہ اپنے اس موقف کو مزید صحیح ٹھرانے سے قاصر دکھائی دیے۔

 

چلاس کے مقامی رہائش پذیر خان محمد نے کہا کہ تعلقے میں جنگلات محکمہ کے افسران اس ٹمبرمافیا کی علاقے سے کاٹے گئے درختوں کو ملک کے شہروں میں فروخت کرنے کے لیے اس کو ٹرانسپورٹ کرنے میں بھی مدد کررہے ہیں۔

 

ٹمبر مافیا کاٹے گئے درختوں کو شہروں میں واقع ٹمبر مارکیٹ میں 3000 روپے میں ایک کیوبک فوٹ فروخت کرتے ہیں۔

 

ماہرین جنگلات کہتے ہیں کہ یہ ٹمبر مافیا بچے ہوئے جنگلات کے تحفظ میں حائل رُکاوٹ ہیں۔ 

 

پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ کے سابقہ ڈائریکٹرجنرل نام ناظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھلا جنگلات کو بچانے کے مطلق کسی بھی طرح کے اقدامات یا منصوبے کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں جب تک اس ٹمبر مافیا کا صفایا نہیں کیاجاتا۔

 

گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان کی وفاقی ڈویژن برائے موسمیاتی تغیرات ۳۔ ۸ ملین ڈالرز ورلڈ بئنک کے زیرانتظام چلنے والے فاریسٹ کاربن پارٹنرشپ فیسلیٹی فنڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، جو پاکستان میں جنگلات کے تحفظ اور نئے جنگلات لگانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

 

یہ فنڈ پاکستان کو ریڈ پلس منصوبے تیارکرنے اور ان کو عمل میں لانے کے لیے بھی استعمال کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جاسکیں گے۔

 

پاکستان ان آٹھ ممالک میں سے ایک ہے جن کو پانچ سال کے دوران اس فنڈ کے تحت 100 ملین ڈالرز دیے جائیں گے۔ بھوٹان، بُرکینا فاسو، آئوری کوسٹ، فجی، ڈومینیکن ریپبلک، نائیجیریا اور ٹوگو ان آٹھ ممالک میں ہیں۔

 

موسمی تغیرات کی ڈویژن کے سابقہ دائریکٹر جنرل جاوید علی خان کہتے ہیں کہ اس فنڈ کا شفاف استعمال اس ڈویژن کےلیے بڑا چیلنج ہے۔ ورنہ مستقبل میں ایسے فنڈز سے یہ ڈویژن محروم رہے گی۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.