کشمیر میں آلودگی پر قابوپانےکے لیے ماحولیاتی عدالتوں کا قمیام

by Roshan Din Shad | Thomson Reuters Foundation
Friday, 25 April 2014 09:00 GMT

After 12-year delay courts to hear cases

مظفرآباد، پاکستان (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) مظفرآباد کی ایک مصروف تجارتی شاہراہ پرواقع اپنی کتابوں کی دکان کی کھڑکی سے عشروں پُرانی بسوں کے انجنوں اور پتھر پیسنے والی مشینوں سے پیدا ہونے والی گرد ملے دھوئے کی طرف گورتے ہوئےشوکت نوازمیر کو اطمنان ہے کہ اب اُنکے پاس آلودگی کے خلاف آواز بلند کر نے کے لیے ایک راستہ کُھلا ہے۔

 

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر، جسے آزاد جموںوکشمیریا اے جے کے بھی کہا جاتا ہے، کی حکومت نے خطے میں ماحولیاتی قو انین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے ماحولیاتی عدالت کا افتتاح کیا ہے ۔

قانون ساز اسمبلی نے ماحولیاتی عدالتوں کے قیام کی منظوری بارہ سال قبل دیدی تھی ۔لیکن تحفظ ماحولیات ایجنسی کے حکام کے مطابق فنڈز کی کمی ان کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنی رہی۔

 

چالیس سالہ میر کہتے ہیں کہ اس تبدیلی کی وجہ اُن کی طرف سے ہائیکورٹ میں دائر وہ پٹیشن بنی جس میں اُنہوں نے 2005 کے زلزلے سے تباہ شہر کے بنیادی ڈھانچے اور 2007 سے پن بجلی کے ایک بڑے منصوبے کی تعمیر سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں شکایت کی تھی ۔

 

میر کہتے ہیں کہ انہیں اُمید ہے کہ ان عدالتوں کے زریعے کم ازکم آلودگی کا مسئلہ تو حل ہو جائے گا، کیونکہ لوگوں کے پاس ماحول سے متعلق شکایات دائر کرنے کے لیے ایک مختص فورم ہے۔

 

ہائیکورٹ میں دائر میرکی پٹیشن حکومت کو تین لاکھ کی آبادی پر مشتمل مظفرآباد شہر جو خطے کا دارالحکومت بھی ہے کے ماحول کو پہنچنے والی نقصانات پر قابو پانے پر مجبور کرنے کی استدعا کر تی ہے۔

 

پٹیشن کہتی ہے کہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر دن رات بھاری ٹریفک چل رہی ہے اور متعلقہ حکومتی ادارے فضائی آلودگی، گرد وغبار، دھوئے اور زہریلی گیسوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی بین الاقوامی معیار کی سہولت مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

 

پٹیشن کہتی ہے کہ فضائی آلودگی اور پانی کے پائیپوں میں آمیزش سے شہر کے باسیوں کی صحت کو خطرات لاحق ہیں اور شہر سے گزرنے والے دو دریاؤں میں سے ایک کے پانی کو پن بجلی منصوبے کے لیے موڑنے سے دریا بچے کُھچے پانی میں گندگی بڑھ جائے گئی۔ میر کا گھر متاثرہ دریا کے کنارے پر واقع ہے ۔

 

رغبت 

ان کامزید کہنا ہے کہ اگرچے اُن کی پٹیشن عدالت میں زیر کار ہے لیکن اس نے ہائیکورٹ کو تحفظ ماحولیات ایجنسی کوماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے لیے مجبور کیا جس نے آخرکار حکومت سے فنڈز حاصل کر کے عدالتوں کے قیام کے لیے قانونی ضابطے مکمل کیے ۔

 

میر کہتے ہیں کہ ماحولیاتی عدالتیں فضائی آلودگی پر قابو پانے میں اہم کردارادا کریں گی۔ 

 

شوکت نوازمیر نے کا کہنا ہے کہ شہرکی تعمیرنو منصوبوں پر کام مزید چار سال تک جاری رہے گا اور اگر اس دوران تعمیراتی کمپنیاں گرد وغبار کے خاتمے کے لیے پانی نہیں چھڑکتی تو کوئی بھی شہری عدالت میں جا سکتا ہے۔

 

اب پاکستانی کشمیر کے ہر ضلعے میں ماحولیاتی عدالت اور مظفرآباد میں ماحولیاتی ٹریبیونل قائم ہو چکا ہے جو تیس لاکھہ اور اس سے زائد جرمانے سے متعلق مقدمات کی سماعت کریگا۔

 

نئی عدالت کے رجسٹرارریاض احمد نے تھامسن رائٹرز فائونڈیشن کوبتایاکہ ٹریبیونل سب سے پہلے جن دومقدمات کی سماعت کریگا وہ مظفرآباد سے 270کلومیٹردورصعنتی شہر میرپورمیں پتھر پیسنے والی مشینوں کے خلاف ہیں۔

 

ای پی اے کے ناظم ڈاکٹراورنگزیب خان کہتے ہیں کہ ماحولیاتی عدالتوں کے قیام سے ایک طرف لوگوںمیں ماحول کے بارے میں شعور بڑے گا اور دوسری طرف قوانین کی خلافورزی کے بارے میں خوف بھی پیدا ہوگا۔

 

وہ کہتے ہیں کہ ماحو ل پرموقع دیکھائی نہ دینےوالا دوست یا دشمن ہے۔ اس لیے اس کے اثرات فوری نظرآنے والے نہیں ہوتےاس لیے لوگ اُس کے نتائج اور اثرات سے بے خبر ہونے کے باعث اس کے تحفظ کو اس طرح سنجیدہ نہیں لیتے جس طرح باقی مسائل کو لیتے ہیں۔

 

ریاست پر محدود اثرات

ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شوکت عزیز کہتے ہیں کہ ماحولیاتی عدالت میں مقدمات چلنے سے لوگوں کو آگاہی اور اردگرد کے ماحول سے صحت کو لاحق خطرات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے مطعلق ترغیب حاصل ہوگئی۔

 

ای پی اے نے ماحول کی نگرانی کے لیے معائنہ کار بھرتی کر نے کے علاوہ ٹریفک کے دھوئے کی مقدار معلوم کرنے کے لیے آلات بھی حاصل کر لیے ہیں۔

 

ڈاکٹرخان کہتے ہیں کہ شہرمیں ٹریفک جام کم کر نے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ٹریفک جام کے دوران انجن اسٹارٹ رہنا دھواں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

 

ہائیکورٹ میں میر کے مقدمے کی پیروی کر نے والے سینئر قانون دان کرم داد خان ایڈووکیٹ کا ماننا ہے کہ تحفظ ماحول ایجنسی ماحول کو نقصان پہنچانے والے غیر سرکاری افراد، ٹرانسپورٹ، اور کمپنیوں کے خلاف موثر ثابت ہو گئی۔

 

تاہم، خان کو خدشہ ہے کہ ای پی اے کے حکام اتنے باہمت اور بااختیار نہیں ہیں کہ وہ ماحولیاتی قوانین کی خلافورزی کر نے والے سرکاری اداروں کے خلاف کھڑے ہوسکیں بالخصوص پاکستان کی پانی اورتوانائی اتھارٹی (واپڈا) کے خلاف جسے مظفرآباد کے قریب پن بجلی کا 969 میگاواٹ منصوبے کی تعمیرکے دوران علاقے کے قدرتی ماحول کو مبینہ نقصان پہنچانے پر تنقید کا سامنا ہے۔

 

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ مظفرآباد شہر سے گزرتے ہوئے اس کی سیوریج اور کوڑا کرکٹ کو بہا لے جانے اور اُسے ٹھندا رکھنے والے دریائے نیلم کے 80فیصد پانی کو توانائی پیدا کر نے کے لیے موڑنے سے مقامی آ ب وہوا پرانتہائی منفی اثرات مرتب ہو نگے۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.