پاکستان میں موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیٹیکل ول کی ضرورت ہے

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Friday, 5 September 2014 14:15 GMT

A general view of a flooded road after heavy rains in Lahore, Pakistan, on September 5, 2014. At least 73 people have been killed across Pakistan after heavy rains brought flash floods and caused homes to collapse in the Punjab and Kashmir regions, government officials said Friday. REUTERS/Mohsin Raza

Image Caption and Rights Information

The country’s people, food security, health and economy are all at risk from changing conditions, scientists and researchers warn

اسلام آباد، پاکستان [تھامسن رائٹرزفائونڈیشن] - ماہرین موسمیات کہتے ہیں کہ بری حکمرانی اور قدرتی وسائل کی ڈیگریڈیشن کی وجہ سے پاکستان کی کلائمیٹ چینج ورلنرایبلٹی کی صورتحال مزید بگڑتی جارہی ہے
 جس سے فوڈسکیورٹی، صحت اورلوگوں کے ذریعہ معاش کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
بوسٹن یونیورسٹی کے پردی اسکول آف گلوبل اسٹڈیزکے ڈین عادل نجم کہتے ہیں کہ غربت ملک میں کلائمیٹ چینج ورلنرایبلٹی کی صورتحال کو جانچنے کے لیے ایک اہم فیکٹر ہے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں انٹرگورنمینٹل پئنل آن کلائمٹ چینج کی پانچوین اسسمینٹ رپورٹ کے پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر ایک اہم کانفرنس کے دوران کیا۔ 
ان کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ جنگلات اور پانی کے وسائل شدید بگاڑ کا شکار ہیں، جس کی اہم وجہ ان وسائل کی غیرپائیدار مئنیجمنٹ ہے۔ 
عادل نجم مزید کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات پر حکومت پاکستان سنجیدہ نہیں ہے اور ان خطرات کو نمٹنے کے لیے کوئی مناسب اقدام اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت پاکستان کا ایسا رویہ ملک، معیشت اور اس کے عوام کے لیے آنے والے وقت میں شیدید پریشانی کا باعث من سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کی بے یقینی اور بے اعتباری سب سے بڑا چیلنج ہے اور معاشی طور پر کمزور لوگ سب سے زیادہ خطرے میں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ غریب لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا مگر اُن میں سے بہت سارے اس قابل نہیں ہیں۔
عادل نجم نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست دانوں کوسماج، معاش اور قدرتی وسائل پرموسمیاتی خطرات کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے یا ان کو کم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا اور ان کو کمیونٹیز کو بدلتے موسموں سے موافقت رکھنے کے لیے مدد فراہم کرنا ہوگی۔
جرمنی میں اقوام متحدہ کی یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ فار انوارنمینٹ ائنڈ ہیومن سکیورٹی کی کوکو وارنر خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے اب نہ نمٹنے کی صورت میں مستقبل میں ان خطرات کی صورتحال اور بگڑسکتی ہے، جس سے سسٹین ایبل ڈوولپمنٹ کے لیے کیے گئے پروگرام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مون سون کو مانیٹر کرنے کی ضرورت
 انٹرگورنمینٹل پئنل آن کلائمٹ چینج کی پانچوین اسسمینٹ رپورٹ کے ایک اہم رائٹر ایڈون الدریان نے اس ضرورت پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں مون سون کو پائیدار اور پراثر مانیٹر کرنے کے لیے تیاری کرنا ہوگی تاکہ انسانی جانوں، انفراسٹرکثر اور معاشیات کو نقصان سے بچایا جائے۔
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تحقیقی ادارے گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈی سینٹر کے زرعی سائنسدان محسن اقبال نے اس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں مختلف زرعی فصلوں کی پیداور میں کمی واقع ہوگی خاطر کر دھان، مکئی، گندم اور پوٹیٹو۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیالاب اور انجرجی بحران سے فوڈ پروسیسنگ، ریفریجریشن، اسٹوریج اور غذائی اجناس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ترسیل پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔
پاکستان زراعت کے لیے ۶۰ سے ۸۰ فیصد پانی ندی نالوں سے حاصل کرتا ہے، جو شمال سے گلیشیئل علاقوں سے نکلتے ہیں۔ مگر ان گلیشیئر کا تیزی سے پگلنےاور بے ترتیب اور شدید بارشوں کی وجہ سے کبھی زیادہ پانی تو کبھی قلت آب کے مسائل پیدا ہونگے۔
محسن اقبال کہتے ہیں کہ تاہم گلیشیرز کے پگھلنے کے بدلتے ہوئے رویے دریاوں کے بھاو میں تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں جسے کے زراعت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے زرعی فصل جو بارانی علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں ان پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔
محسن اقبال نے اس بات کی پیشنگوئی کی ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گندم کی پیداور پر کافی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اس صدی کے آخر تک گندم کی پیداور میں چھہ سے آٹھہ فیصد اور دھان کی ۱۵ سے ۲۰ فیصد کمی واقع ہوگی۔
سمندر کی بڑھتی ہوئی لیول
پاکستان میٹرولاجیکل ڈپارٹمنٹ کے موسمیاتی ماہر غلام رسول کہتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں سمندر کی لیول بڑھ رہی ہے، جسے سے جنوبی ایشیائی ممالک میں 
ڈیلٹاوں، جس میں انڈس ڈیلٹا بھی شامل ہے، کو ڈوبنے کے خطرات لاحق ہیں۔
لیڈ -پاکستان کے سربراہ توقیر علی شیخ کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی انسانوں کی صحت پر منفی طریقے سے اثرانداز ہورہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈینگی جیسی بیماریاں پہلے عام ہوتی جارہی ہیں جس کی اہم وجہ بدلتے ہوئے  درجہ حرارت اور بارشیں ہیں۔
تاہم، محسن اقبال کہتے ہیں کہ پائیدار اور وقتی اقدامات اٹھانا بہت ضروری ہیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنا جاسکے،جس کے لیے حکومت کے مختلف محکموں میں روابط کو بڑھانا ہوگا جیسے زراعت، پانی، بجلی، فوڈسکیورٹی، آبپاشی اورصحت۔
سلیم شیخ اور صغرہ تنیو اسلام آباد میں نمائندگان برائے موسمیاتی تبدیلی اور سائنس ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.