لکڑ کی قلت کا شکار کشمیر ی سیلابی پانی سے لکڑ کے متلاشی

by Roshan Din Shad | Thomson Reuters Foundation
Friday, 26 September 2014 10:45 GMT

Jameel Ahmed and his children trap wood floating in the floodwaters of the River Jhelum, in Muzaffarabad, the capital of Pakistani-administered Kashmir. TRF/Roshan Din Shad

Image Caption and Rights Information

Poor families who can't afford fuel have been netting firewood from flooded rivers, putting themselves at risk

 

مظفرآباد، پاکستان (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن ) جمیل احمد اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے جالے کے ساتھ دریائے جہلم کے پانی کو اس امید کے ساتھ چھان رہا ہے کہ اسے لکڑ حاصل ہوگی -

 

وہ دس سے پندرہ منٹ بعد لکڑسے بھرا جالہ دریا سے باہر کھینچ کر لکڑیاں دریا کنارے منتظرچودہ سالہ بیٹے اور نو سالہ بیٹی کی طرف سے لائی جانے والی ٹوکری میں ڈالتا ہے ۔

 

احمد مظفرآباد کے لوئر چھتر کے علاقے میں واقع اپنے گھر کے قریب سے بہنے والے دریائے جہلم میں بیس فیٹ اندرپانی میں صبح سے شام تک لکڑیاں تلاش کرتا ہے۔

 

چھتیس سالہ احمد دریا کنارے دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم موسم سرما میں شدید سردی کے دوران آگ جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کررہے ہیں کیونکہ ایل پی جی گیس مہنگی ہو نے کی وجہ سے ہماری پہنچ سے باہر ہے ۔

 

وہ کہتا ہے کہ گیارہ کلو کا گیس سلنڈر اُنیس سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے ۔جو انکے لئے بہت مہنگا ہے ۔

 

ستمبر میں کشمیر کے دریاؤں میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ان کے کنارے آباد ہزاروں لوگوں کے لیے جلانے اور تعمیرات کے لئے لکڑ جمع کر نے کا موقع بھی مہیا کیا تھا۔

 

دریائے جہلم میں سیلابی ریلے میں کافی حد تک کمی واقع ہوچُکی تھی، لیکن اب اُس کے کنارے آباد اس ناپید ضرورت کے لیے کئی لو گ دریا میں لکڑیوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

 

سیلاب کے بعد پندرہ روز سے احمد اپنے اہل وعیال سمیت روزانہ چارسو کلوگرام لکڑپکڑرہا ہے جس کی مالیت نوے ہزار روپے بنتی ہے۔

 

ایک سال میں لکڑی کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ مارکیٹ میں چھ سو روپے فی من کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے ۔جس کا یہ مطلب ہے کہ یہ توانائی بحران کا شکا ر مڈل کلاس کے لیے انتہائی مہنگی ہے۔

 

چھ بچوں کے باپ اکاون سالہ حُسین کہتے ہیں کہ وہ لکڑکی گیلیوں کی فروخت اور بالن نہ خریدنے کی وجہ سے ایک لاکھ روپے کی بچت کرینگے۔

 

پابندی نظرانداز

دریاؤں کے کنارے قصبوں اور دیہات میں آباد سینکڑوں افراد بشمول عورتیں اوربچے، سیلاب کے پہلے دو دنوں یعنی ۵ اور۶ ستمبر کے دوران سیلابی دریاؤں اور ندی نالوں کو کنارے لکڑیاں پکڑنے جمع ہو گئے۔ ایک عورت اور ایک نوجوان ۵ ستمبر کو، جب دریا اپنے جوبن پر تھا،گیلیاں پکڑتے ہو ئے دریا میں بہہ گئے۔

 

آفات سے نبردآزما ہو نے کے لیے قائم ادارے SDMA کے سربراہ اکرم سہیل نے تھامسن رائٹرز فاونڈیشن کو بتایا کہ سیلاب کے پیش نظر تمام دس اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کے دفاتر میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کردیے گئے تھے اورلوگوں کے دریاؤں کے قریب جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود دوافراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

 

سہیل نے بتایا کہ شدید بارشوں کی وجہ سے پاکستانی کشمیر میں زرائع آمدرفت شدید متاثر ہو نے کے علاوہ چونسٹھ افراد جاں بحق،۱۲۹زخمی، آٹھ ہزار گھروں کو نقصان پہنچا اور ۱۳۰ دیہاتّں میں پچاس ہزار لوگ متاثر ہوئے۔

 

دریائے جہلم جوبھارتی کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے قریب سے نکلتا ہے اس نے سرینگر کو جس بُری طرح ڈبویا اُسکی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

 

پاکستان کے زیرکنٹرول کشمیر میں حکومت کی طرف سے بارشوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو ایک ملین روپے بطورمعاوضہ دینے کا اعلان کیا گیاہے۔ لیکن دریا سے لکڑیاں پکڑتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا۔

 

علاقے کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں یہ سوال اُٹھایا کہ لوگ لکڑ کی خاطر کیوں اپنے آپ کوخطرے میں ڈال رہے ہیں- لیکن، مقامی لوگ حکومتی پابندی کو نظراندازکرتے ہوئے سردیوں میں جب بالن اور گیس کی قیمت بڑجاتی ہے اور ایسے اثرات سے بچنے کے لیے اپنی گھر کی ضروریات پوری کرنے اور آمدنی حاصل کرنے کے لیے دریا سے لکڑتلاش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

 

متبادل ذرائع کی عدم موجودگی

مظفرآباد کے ایک اور رہائشی نذیر حسین کہتے ہیں کی دریااپنے ساتھ بہت لکڑ لایاہے ۔اور اُس نے تعمیرات اور بالن دونوں کے لئے لکڑپکڑی۔ جسے فوری طور پردریا کے کنارے سے گھر منتقل کر لیاتاکہ محکمہ جنگلات کی نظروں میں نہ آئے اورنہ کوئی اور لے جائے۔

 

جالہ ہاتھ میں لیے دریا میں اُترتے ہو ئے نذیر حسین ناراضگی کا اظہار کر تے ہو ئے کہتے ہیں کہ علاقے کو لکڑ کی قلت کا سامنا ہے اور دریا میں آنے والی لکڑ قدرت کی طرف سے تحفہ ہے۔ اس لیے حکومت کو پابندی عائد کر نے سے پہلے لوگوں کو لکڑ کا متبادل مہیاکر نا چاہیے۔

 

ریاستی محکمہ جنگلا ت کے آفیسر ملک اسد بتاتے ہیں کہ محکمہ جنگلات کی وادی نیلم میں تیرہ ہزار مکعب فیٹ گیلی سیلاب میں بہہ گئی جو دارالحکومت مظفرآباد کو مہیا کی جانی تھی۔

 

وہ کہتے ہیں کہ دریائے جہلم میں آنے والی زیادہ تر لکڑ بالن شکل میں تھی جس سے سینکڑوں خاندانوں کو کم ازکم دو سال کے لیے جلانے کے لیے لکڑ مہیا ہوگئی ہے۔

 

مظفرآباد کے محکمہ جنگلات دریا میں بہہ کر آنے والی گیلیاں اپنی ملکیت سمجھتاہے، جنھیں پکڑنے کے لیے چھاپے مارے جاتے ہیں ۔

 

اسد نے تھامسن رائٹرز فاونڈیشن کو بتایا کہ دریا سے گیلیان پکڑنے والوں کے ساتھ چھ سات جگہ جھگڑا بھی ہوا، تاہم انہوں نے بالن جمع کر نے والوں کو کچھ نہیں کہا اس لیے کہ غربت اورایندھن کے متبادل زرائع نہ ہو نے کی وجہ سے دریاسے لکڑ پکڑنے والی سرگرمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

رسد میں کمی

زلزے سے بحالی و تعمیر نو کے حکومتی ادارے میں ملازم انیب گیلانی کی مظفرآباد کے قریب روانی کے مقام پر دریا کے کنارے زمیں  ہے ۔ دریائے جہلم کے سیلابی پانی نے دریا کنارے ان کے ہوٹل کے احاطے میں درجنوں گیلیا ں پہنچائی ہیں۔

 

وہ بتاتے ہیں کہ دو مکان تعمیر کر نے کے لیے محکمہ جنگلات کو درخواست دینے کے بعد دو برس سے لکڑ کے انتظار میں تھے۔ خداکا شکر ہے سیلاب نے یہ کام کرآسان دیا اور اب تعمیر اور جلانے کے لیے وافر لکڑ مہیا ہو گئی۔

 

انہوں نے کہا کہ سیلابی لکڑ سے خاندان کو دو لاکھ کی بچت کے علاوہ تعمیر کا کام جلد مکمل ہو نے کا بھی بہت فائدہ ہو گا۔

محکمہ جنگلا ت تعمیری ضرورت کے لیے رعائتی نرخوں پر لکڑمہیا کرتا ہے جو رسد  اور طلب کے درمیان وسیع فرق کو ختم کر نے کے لیے دباؤ میں ہے۔

 

محکمہ جنگلات کے ایک اور آفیسر امتیاز اعوان کہتے ہیں کہ مظفرآباد شہر کی ڈیمانڈ کو پورا کر نے کے لیے بیس لاکھ مکعب فیٹ لکڑ کی دستیابی کے مقابلے میں صرف ستر ہزارفیٹ غیر معیاری لکڑ مہیا کی جاری ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے۱۹۹۸سے سبز درختوں کے کاٹنے پر پابندی ہے۔ تب سے محکمہ جنگلات گرے یا ٹوٹے ہوئے درختوں کی لکڑ مہیا کر رہا ہے۔

 

روشن دین شاد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تھامسن ڑائٹرز فائونڈیشن کے لیے نمائندہ ہیں۔ 

.

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.