کشمیریوں کا پاکستان اور بھارت پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تعاون پر زور

by Roshan Din Shad and Ashutosh Sharma | Thomson Reuters Foundation
Tuesday, 25 November 2014 10:48 GMT

A Kashmiri woman carries a child as she wades through flood waters in Srinagar, India, Sept. 20, 2014. REUTERS/Danish Ismail

Image Caption and Rights Information

After Kashmir floods, pressure grows on two rival nations to put in place joint disaster management systems

 

مظفرآباد، پاکستان۔جموں، انڈیا(تھامسن رائٹرز فاونڈیشن) جب سے انڈین اور پاکستانی جموں کشمیرمیں ستمبر کے مہینے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچائی تب سے کشمیریوں کی طرف سے دونوں ملکوں پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لییایک دوسرے پر تعاون کے لیے زور بڑھ رہا ہے۔

 

حالیہ سیلاب کے دوران ایک اہم پاکستانی عسکری راہنما کی جانب سے سرحدپار اپنے جنگجوؤں کو انڈین فورسزز پر حملے بند کر کے سیلاب متاثرین کی مد د کر نے کا حکم دیا گیا۔

 

بھارتی کشمیر میں بر سر پیکار تیرہ عسکری تنظیموں کے اتحاد، متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے مظفرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کر تے ہو ئے کنٹرول لائن آرپار تجارتی راستوں کو امدادی راستوں میں تبدیل کر نے کا مطالبہ کیا۔

 

اگرچہ اس مطالبے کو کچھ اس وجہ سے بھی شک کی نگاہ سے  دیکھا گیا کہ یہ ایسے گروپ کی طرف سے جو کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کا خواہاں ہے لیکن دونوں ممالک کے حکام اور ماہرین کی طرف سے مقامی لوگوں کو ہنگامی صورت حال سے بروقت آگاہ کر نے کی ضرورت پر زور بڑھ گیا۔

 

جموں کے ایک سینئر حکومتی عہدیدار اپنا نام ظاہر نہ کر نے کی درخواست کی نے کہاکہ دونون اطراف کے لوگوں کی بہتر مدد ہو گی اگرقدرتی آفات کے دوران دونوں طرف کی منتخب حکومتیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باہم تعاون کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کر لیں۔ لیکن پاک۔بھارت مشکل تعلقات، شکوک و شبہات اور سلامتی کے خدشات ہمیشہ دونوں کشمیروں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ بنتےَ ہیںَ، جنکی وجہ سے انسانی ہمدردی کے لیے تعاون کے مواقع بد قسمتی سے نظر انداز ہو جا تے ہیں۔

 

ساڑے سات سوکلو میٹرلمبی ٖجنگ بندی لائن جو 1972میں ایک معاہدے کے تحت کنٹرول لائن میں تبدیل کر دی گئی جموں کشمیر کو پاکستان اور بھارت کی تقسیم کرتی ہے۔ دونوں جنوبی ایشیائی قومیں ۱۹۴۷میں برطانوی تسلط سے آزادی حا صل کر نے کے بعد کشمیر پر آپس میں دو جنگیں لڑ چکیہیں۔ دو نوں کے درمیان وقتا فوقتا کشیدگی پیدا ہو تی رہتی ہے۔ جو حالیہ اکتوبر کے مہینے میں بھی دیکھی گئی۔

 

البتہ۰۵ ۲۰کے زلزلے کے علاوہ کنٹرول لائن آرپار ہفتہ وار سفر اور تجارت بدستور جاری ہے اور اسلام آباد نے ۲۰۱۰ کے تباہ کن مون سون بارشون کی وجہ سے آنے والے شدید سیلاب کے بعد نئی دہلی کی طرف سے پانچ سو ملین ڈالرز امداد قبول کرلی تھی۔

 

امداد کی پیشکش مسترد

لیکن ستمبر کے سیلاب کے بعد پاکستان اور نہ ہی بھارت کے راہنماؤں نے حد متارکہ کے دونوں جانب متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ایک دوسرے کی امدادی پیشکیش قبول کی۔

 

پاکستانی کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کہتے ہیں کہ اگر بھارت کو ہم سے ہمدردی ہے تو ہمیں ہمارا حق 'حق خود رائے' شماری دے۔ لیکن انہوں نے اجازت ملنے کی صورت میں ترقیاتی بجٹ کا چھ ارب پاکستانی روپیہ یا اٹھاون لاکھ چالیس ہزار ڈالرز بھارتی کشمیر کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے دینے کا بھی وعدہ کیاہے۔

 

۲۰۰۵میں کشمیر اور اس سے ملحقہ پاکستانی علاقوں میں آنیوالے تباہ کن زلزلے کے برعکس اس بار کنٹرول لائن کو متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے نہیں کھولا گیا، جبکہ پاکستانی کشمیر کی جماعت الدعوہ کے سربراہ عزیز علوی کے مطابق اکتوبر کے شروع میں پاکستانی حکام نے سرحدی قصبہ چکوٹھی سے جماعت الدعوہ کی طرف سے بھیجا جانے والا ریلف کا سامان یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ انڈیا قبول نہیں کرے گا۔

 

علوی نے کہا کہ دونوں ممالک کو مصیبت کے وقت سرحدیں کھول دینی چاہیے۔

 

اقوام متحدہ کا کردار

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے انڈیا ۔ پاکستان اور کشمیر کی دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سیلاب زدہ کشمیریوں کی مدد کے لیے جوائنٹ رلیف کمیشن بنائیں اور اسا ایک مستقل ادارہ بنایا جائے جو آڑے وقت میں مدد مہیا کرے۔

 

انہوں نے کہا کہ کشمیر چونکہ متنازعہ خطہ ہے اس لیے اقوام متحدہ کی زمہ داری ہے کہ وہ خطے کے باسیوں کی مشکل وقت میں مدد کرے اور دونوں ملکوں کو بھی ایسا کر نے کو کہے۔

 

پاکستانی کشمیر میں قائم سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے مظفرآباد میں موجود اقوام متحدہ کے فوجی مبصر برائے پاک۔بھارت کو ایک یاداشت نامہ پیش کیا جس میں ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے کشمیر کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کر نے کا مطالبہ کیا گیا، جو انہوں نے نہ کیا ۔ تاہم ان کے ایک ترجمان نے کہا کہ یو این سسٹم دونوں ملکوں کی مدد کو تیار ہے۔

 

پاکستانی جماعتوں کی طرف سے بھی بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عالمی اداروں کو سیلاب زدگان کی مدد کی اجازت دے جس طرح ان اداروں نے۰۰۵ ۲ میں پاکستانی کشمیر میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد مدد کی تھی۔ جن میں oxfam بھی شامل ہے جو جمون کشمیر میں سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف عمل ہے، لیکن بھارت کو ان تنظیموں کو کشمیر میں کام کر نے کی اجازت نہ دینے پر تنقید کا سامنا ہے۔

 

موسمی تغیرات

اسلام آباد میں قائم سنٹرفار پیس ڈوپلمنٹ اینڈریفارمز کے ایگزکٹو ڈائریکٹر ارشاد محمود نے تھامسن رائٹرز فاونڈیشن کو بتایا کہ کشمیر کے حالیہ سیلاب نے ڈیموں اور دریاؤں کے بہاؤ کے بارے میں بروقت معلومات کے تبادلے کے لئے ایک مشترکہ نظام کے قیام کی ضرورت کو اُجاگر کیا ہے ۔ انہون نے کہا پہاڑوں سے آنیوالا سیلاب پاکستان کے پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں پہنچنے سے پہلے کشمیر کے دونوں حصوں میں تباہی پھیلاتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ماہرین ماحولیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موسمی تغیرات کے باعث ہما لیائی پہاڑی سلسلے میں گلئشیر کے پگھلنے کی رفتا ر میں اضافے کی وجہ سے آیندہ تیس سالوں میں سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ جا ئے گا۔

 

محمود نے خبردارکیا کہ اگر مظفرآباد اور سری نگر کی حکومتیں دریاوں کے بہاؤ کے بارے میں تبادلہ اور موسمی تغیرات کے بارے میں آپس میں تعاون نہیں کرتی تو پورے خطے کو نقصان اُٹھانا پڑے گا۔

 

روشن دین شاد مظفرآباد اور اشتوش شرما جموں کشمیر میں تھامسن رائٹرز فاونڈیشن کے نمائندے ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.