پاکستان کا شمسی توانائی کو نیشنل پاور گرڈ میں لانے کا فیصلہ

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Tuesday, 6 January 2015 10:31 GMT

Technicians work on solar panels in a power station at Hub about 25 km (15 miles) from Karachi on June 18, 2010. REUTERS/Akhtar Soomro

Image Caption and Rights Information

The change - combined with a cut in solar panel import taxes - could spur a surge in solar use, and help cut blackouts

اسلام آباد، پاکستان:  (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) - ملک میں صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے، پاکستان نے گرڈ سے منسلک شمسی توانائی،چھتوں پر شمسی پینلز کی تنصیب اور مارگیج فنانسنگ کی اجازت دے دی ہے۔حکومت نے ۲۰۱۴-۱۵ کے بجٹ میں شمسی توانائی کے آلات پر ۳۲ اعشاریہ پانچ فیصد لگایا جانے والا ٹیکس بھی واپس لے لیا ہے،ٹیکس کے خاتمہ کا مقصد شمسی توانائی کے پینلز کی قیمتوں کو کم کرنا ہے۔

 

متبادل توانائی ترقی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو اسجد امتیاز علی کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے شمسی توانائی کے استعمال میں اضافہ ہوگا اور ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی، ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ شمسی توانائی کا استعمال بڑھنے سے شمسی آلات کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔

 

اسجد کا کہنا ہے کہ میڈیا، عوام اور تاجروں کے دباؤ کے باعث حکومت نے شمسی آلات پر لگایا جانے والا ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے،اس فیصلہ کے بعد، صارفین اب اپنے گھروں کی چھتوں پر شمسی آلات نصب کر سکتے ہیں اور اضافی توانائی نیشنل گرڈکو فروخت کر سکتے ہیں۔

 

اس وقت پاکستان کے دیہی علاقوں میں گیارہ سے زائد گھنٹوں کے لیئے بجلی نہیں ہوتی جبکہ ملک کے شہری علاقوں کو بھی روزانہ کی بنیاد پر آٹھ گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے رجسٹرار سفیر حسین کا کہنا ہے کہ جو صارفین اپنی شمسی توانائی کو ڈسٹریبیوشن کمپنی کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں ادارہ کے ساتھ اپنی رجسٹریشن کرانی ہو گی۔انکا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ ایک عمدہ نظام ہے اور درخواست گزار تمام مطلوبہ شمسی توانائی کے آلات نصب کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔

 

نیٹ میٹرنگ بلنگ کا ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے تحت اضافی شمسی توانائی پیداکرنے والے صارفین اسے نیشنل گرڈ کو فروخت کرسکیں گے، اگر ایک صارف گرڈ سے زیادہ بجلی خرچ کرتا ہے بہ نسبت شمسی توانائی فروخت کرنے کے تو اسے ہر ماہ اضافی استعمال شدہ بجلی کا بل ادا کرنا پڑے گا، لیکن اگر وہ زیادہ بجلی نیشنل گرڈ کو ایک ماہ میں بیچتا ہے تو وہ آئندہ ماہ کے بلوں پر کریڈٹ حاصل کرسکے گا یا پھر سالانہ بنیادوں پر اضافی بجلی کی قیمت وصول کر سکے گا۔سفیر حسین کا کہنا ہے کہ ایک صارف سے بجلی اسی نرخ پر خریدی جائے گی جس نرخ پر اسکو بجلی کا بل بھیجا جاتا ہے۔

 

گریس سولر پاکستان کے چیف ایگزیکٹو افسر اور شمسی پینلز کے درآمد کنندہ نعمان خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے کی گئی مثبت پیش رفت کے باعث ۲۰۱۵ میں اسکی درآمدات تین گنا ہو جائیں گی۔۲۰۱۳ میں پاکستان کے پرائیویٹ شعبہ نے ۳۵۰ میگا واٹس کے شمسی پینلز درآمد کیے، جبکہ حکومت کی طرف سے ان آلات پر ٹیکس لگانے کے بعد ۲۰۱۴ میں صرف ۱۲۸میگا واٹس کے شمسی آلات درآمد کیے جا سکے۔

 

خان کا کہنا ہے کہ درآمدی ٹیکس میں چھوٹ اور صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے دوسرے حکومتی اقدامات خوش آئند ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ ۲۰۱۵ میں  ۸۰۰میگاواٹس کے شمسی آلات درآمد کیے جائیں گے۔نیٹ میٹرنگ سے نہ صرف صارفین کو بلاتعطل بجلی ملے گی بلکہ حکومت کو بھی بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

 

نعمان خان اور دوسری دو کمپنیوں کے سربراہ اگلے دو سے تین سالوں میں لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد کے ایک لاکھ گھروں پر شمشی توانائی کے پینلز لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ایک پرائیویٹ بینک الفلاح لمیٹڈ اس کے لئے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو قرض بھی فراہم کرے گا۔

 

بینک دولت پاکستان اور متبادل توانائی ترقی بورڈ نے حال ہی میں بینک الفلاح کو چھت پر شمسی توانائی کے آلات نصب کرنے کے لئے لوگوں کو قرضے دینے کی اجازت دی ہے۔ بینک الفلاح کی ایک سینئر مینیجر فاریحہ میر کا کہنا ہے کہ چھتوں پر شمسی آلات کی تنصیب کے لئے پچاس لاکھ روپے تک ایک صارف کو قرض دیا جا سکے گا اور یہ سکیم ۲۰۱۵ کے پہلے کوارٹر میں شروع ہو جائے گی۔

 

فاریحہ میر کا کہنا ہے کہ صاف توانائی کے بارے میں آگہی پیدا کرنا انکی معاشرتی ذمہ داری ہے اور اسکے لیے انکا بینک اپنے گاہکوں کو آسان شرائط پر قرض بھی مہیا کرے گا۔بینک ایسے صارفین کو قرض دیگا جو اپنے گھروں کو شمسی توانائی پر تبدیل کرنا چاہتے ہیں، خواہشمند حضرات اپنے گھروں کے رہن کے بدلے میں آسان اقساط پر قرض حاصل کرسکیں گے اور یہ پروگرام اگلے پانچ سالوں تک قابل عمل ہوگا۔

فاریحہ کا کہنا ہے کہ قرض ان لوگوں کے لئے فائدہ مند ہو گا جو ویسے اپنے گھر کی چھتوں پر شمسی توانائی کے آلات نصب کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

 

ماحولیاتی تبدیلی کے ایک ماہر قمرالزمان کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ اور پرائیویٹ شعبہ کی طرف سے کی جانے والی فنانسنگ پاکستان میں متبادل توانائی کے استعمال کے فروغ میں انقلاب لانے کا باعث ثابت ہو گا،کیونکہ ایسے اقدامات سے بیشتر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک پہلے ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔شمسی توانائی کو فروغ دینے سے پاکستان بجلی کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ،کاربن کے اخراج کو بڑی حد تک کم کرسکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے مختص فنڈز بھی حاصل کر سکتا ہے۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.