کشمیر میں موسمیاتی تغیر ات کے منفی اثرات مقامی لوگوں کو عسکریت پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ پاکستانی ماہرین کی وارننگ

by Roshan Din Shad | Thomson Reuters Foundation
Tuesday, 27 January 2015 09:45 GMT

Crop losses due to extreme weather are deepening poverty, driving some young Pakistanis to join militant groups

 

مظفرآباد، پاکستان (تھامسن رائٹرز فاونڈیشن ) سیب کی فصل کی تباہی کے باعث مالی مشکلات نے عقیل احمد کو بیس سال کی عمر میں تعلیم ترک کر کے سرحد پار متنازعہ کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے خلاف برسرپیکار ایک عسکری گروپ میں شمولیت اختیا ر کرنے پر مجبو ر کیا

 

اس سال اُسکے خاندان کا انحصار پاکستانی کے زیرانتظام کشمیر یا آزاد کشمیر کے دور افتادہ دیہات میں بسنے والے بہت سے دوسرے خاندانوں کی طرح سیب کے باغ سے حاصل ہو نے والی پانچ لاکھ پاکستانی روپے  (پانچ ہزار ڈالر) سے متوقع آمدن پر تھا ۔ لیکن اچانک تیز بارش کے باعث ہونے والی سردی اور کورے سے پھولتے ہوئے سیبوں کی تباہی نے اُن کی سال بھر کے لیے خوراک خریدنے کی اُمیدوں کو خاک میں ملا دیا۔

 

چھیالیس سال کی عمر کو پہنچنے والے احمد نے تھامسن رائٹرز فاونڈیشن کو بتایا کہ میں کام کی تلاش میں مارے مارے پھرتا رہا تاکہ اپنے خاندان کو فصل ضائع ہو نے کے باعث پیدا ہونے والے مالی بُحران سے نکال سکوں۔ لیکن، حکومتی اداروں اور نجی اداروں میں سفارش نہ ہو نے کی وجہ سے کو ئی کام نہ مل سکا۔ 

 

اسی دوران اُس کی ملاقات ایک عسکری گروپ کے حامیوں سے ہو ئی جو اُن دنوں تعلیمی اداروں میں جاکرطلباء کو بھرتی کر تے تھے۔ اُنہوں نے اُسے خاندان کی کفالت کے لیے چند ہزار روپے دیے اور اُسے عسکری تربیت کے لیے افغانستان کے ایک تربیتی کیمپ میں تین ما ہ کے لیے لے گئے۔

 

احمد، جنہوں نے اپنا اصلی نام بتانے سے معذرت ظاہر کی، ۱۹۹۸ میں بھارتی کشمیر کے سرحدی قصبوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف بارودی مواد نصب کر نے اور ان پر حملے کر نے کے لیے پہلی بار سرحد عبور کی۔

 

آخر کار۶۰۰ ۲ میں اُسے ایک سرکاری محکمے میں معاون کی نوکری مل گئی جس سے اس نے اپنے خاندان کی کفالت شروع کر دی۔

 

ماہرین کے مطابق، وہ پاکستانی کشمیر کے ان سینکڑوں نوجوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی تغیرات کے نتیجے میں بڑھتی ہو ئی غربت کے باعث عسکری تنظموں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

 

زندگی کے بعد اعزاز

 

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بائیو ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر ضابطہ خان نے مظفرآباد میں کشمیر یونیورسٹی کے زیر تحت کلائیمیٹ چنج کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کو بتایا کہ اگر ہم انسانی تہذیب کی دو صدیوں پر میحط تاریخ پر نگا ہ ڈالیں تومعلوم ہو گا کہ انسانی مشکلات اور نام نہاد دھشت گردی کی بنیاد غربت ہے۔ 

 

وہ کہتے ہیں کہ کرئہ ارض کے گرم ہو نے کی وجہ سےسیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی تغیرات میں شدت متوقع ہے۔ جو لوگوں کو مزید غربت کی پستیوں میں دھکیل کرانھیں عسکریت پسندی اور بغاوت کی طرف آمادہ کر یگی ۔

 

پروفیسر خان نے کہا کہ اگر کسی غریب کا بیٹا بھوک یا کسی بیماری سے مر رہا ہو اور اُس کو اس موقع پر ایک لاکھ روپے (ایک ہزار ڈالر) کی پیشکش کی جائے اور مرنے کے بعد انعام بھی ۔ تو کو ن ہو گاجو اس پیشکش کو قبول نہ کرے۔

 

پروفیسر خان، جن کا پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے سے تعلق ہے، کہتے ہیں کہ ہم اپنے ملک میں جنگل کے قریب بسنے والوں کے ساتھ یہ سلوکروا رکھاہے کہ ہم اُن کو کہتے ہیں کہ تم اپنے بچوں کو سردی سے مر نے دو ۔لیکن درخت نہ کاٹو۔ کیونکہ یہ ہمیں آکسیجن مہیا کر تے ہیں۔

 

وہ بتاتے ہیں کہ قبائلی تہذیب میں لوگ اپنے بچوں یا والدین کے لیے جان قربان کر نا باعث فخر سمجھتے ہیں خاص کر جب موت کے بعد بھی اسکا انعام ملے۔

 

کشمیر انسٹیٹوٹ آف اکنامکس کے ڈائریکٹر نثار ہمدانی کہتے ہیں کہ موسمیاتی تغیرات کے زراعت پربرائے راست اثرات سے کشمیریوں کو لاکھوں ڈالرکا نقصان کوہو رہا ہے۔  جبکہ فضائی آلودگی اور بیماریوں کے نمونے میں تبدیلی سے صحت پر پڑنے والے اثرات سے انسانی پیداواری صلاحیت میں کمی لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل رہی ہے۔

 

مسائل کے حل کے لیے سائنسی تحقیق

 

آزادجموں کشمیریو نیورسٹی میں ماحولیاتی کیمسٹری کی تدریس سے منسلک محمد حفیظ کہتے ہیں کہ عالمی گرمائش پہاڑوں سے بر ف کے پگھلنے اور سمندروں سے پانی کے آبی بخارات میں تبدیل ہو نے کے عمل میں تیزی لارہی ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو سیلابوں کا سبب بنتے ہیں جو بستیوں کو تباہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ عسکریت پسندوں کے ہتھے چڑھ جا تے ہیں۔

 

حفیظ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دیہی علاقوں میں لوگ اب بھی پسماندہ زندگی بسر کر رہے ہیں، جو ان پڑھ۔ سادے اور زراعت پر گزربسرکر تے ہیں۔ اور دھشت پسند گروپ مدد کی آڑ انھیں مذہبی تعلیمات کے بارے میں ورغلا تے ہیں۔

 

پنجاب کوپاکستان کے غلے کی ٹوکری کی حثیت بھی حاصل ہے اورزیادہ تر کالعدم تنظیموں کا تعلق بھی یہی سے ہے۔

 

ماہر ماحول خواجہ انصر یاسین جو اے جے کے یوینورسٹی میں پروفیسر ہیں کہتے ہیں کہ کلائیمیٹ چینج غربت کی ایک اہم وجہ ہے ۔اس کے اثرات کو کم کر نے کے لیے کی گئی سائنسی تحقیق کولوگوں تک پہنچانا ضروری ہے تاکہ عسکریت پسندی کی طرف مائل کر نے والے اثرات کوختم کیا جائے۔

 

ےاسین کا ماننا ہے کہ اگر آپ نے اتنی اچھی سائنسی تحقیق کر لی کہ آپ کو نوبل انعام مل گیا لیکن اس سے آپ کے علاقے کے کسان کو فائدہ نہ ہوا تو آپ کی تحقیق بے فائدہہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اُنکی یونیورسٹی ماحول کے تحفظ، آلودگی میں کمی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے نوجوانوں کوفنی تربیت سے آراستہ کر رہی ہے تاکہ اُن کی صلاحیتوں سے اُنکے علاقے کو فائدہ ہو۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.