شمسی توانائی سے پاکستان میں ہزاروں گھر روشن ہوں گے

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Wednesday, 18 February 2015 09:43 GMT

Moin Hassan, an employee of the Capital Development Authority, cleans solar panels which run a tube well in Islamabad, Pakistan. TRF/Aamir Saeed

Image Caption and Rights Information

Scheme is part of a Green Growth Initiative masterminded by former international cricket star Imran Khan

پشاور، پاکستان ۔ پاکستان کے شمال میں واقع صوبہ خیبر پختونخواہ کے دو سو دیہاتوں میں پانچ ہزار آٹھ سو گھروں کو شمسی توانائی سے منسلک کیا جائے گا اور اس سے صاف توانائی کے فروغ میں بھی اضافہ ہوگا۔

اس نوماہ کے منصوبہ کے لئے صوبائی حکومت نے چار سو ملین روپے مختص کئے ہیں،اور اس سے ہر گاؤں میں انتیس گھروں کو شمسی توانائی سے منسلک کیا جائے گا۔یہ سکیم اس سبز ترقی کا سفر کا حصہ ہے جسے پاکستان کے سابق کرکٹر عمران خان نے ایک سال پہلے پشاور میں شروع کیا تھا۔

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اس وقت اس صوبہ کی حکمران جماعت ہے۔اسکا مقصد مناسب قدرتی وسائل جیسا کہ جنگلات کا فروغ، صاف توانائی کے استعمال میں لا کر صوبہ میں معاشی خوشحالی لانا ہے۔

صوبائی وزیر برائے تعلیم اور توانائی عاطف خان کا کہنا ہے کہ انکی حکومت اگلے تین سالوں میں صوبے کے کل چالیس فیصد آف گرڈ علاقہ میں سے دس فیصد کو شمسی توانائی اور چھوٹے پن بجلی گھروں سے منسلک کر دے گی۔صوبہ کے شمالی پہاڑی علاقوں کو پہلے ہی چھوٹے پن بجلی گھروں سے منسلک کیا جا رہا ہے جب کہ اسکے مغربی حصہ میں آف گرڈ گھروں کو شمسی توانائی سے منسلک کیا جائے گا۔شمسی توانائی کے منصوبہ کے لئے حکومت نوے فیصد خرچ برداشت کرے گی جبکہ باقی کا خرچہ صارفین کے ذمہ ہو گا۔

اس منصوبہ کے تحت ہر گھر کو دو سو واٹ کا ایک پینل، دو بیٹریاں اور کچھ دیگر ضروری سامان ملے گا، جس سے ایک چھت والا پنکھا، ایک زمین والا پنکھا ، تین بتیاں اور دو موبائل فون چارج کرنے والی ساکٹیں آسانی کے ساتھ چلیں گی۔اس منصوبہ سے کل ایک اعشاریہ دو میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔

بجلی گھر سے جڑے گھروں کے لئے پورے صوبہ کے لئے پچیس سو میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ وفاق سے اسکو صرف سولہ سو میگا واٹ بجلی ملتی ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ میں موجود متبادل توانائی کے ذرائع کو استعمال کر کے اپنی بجلی پیدا کریں گے تاکہ انکو بجلی کے لئے وفاق سے بھیک نہ مانگنی پڑے۔

گزشتہ ماہ اسلام آباد میں کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ خیبر پختونخواہ میں بجلی کابحران حل کرنے کے لئے پوری توجہ دے گا اور اسکے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری لانے کے لئے بھی کام کیا جائے گا۔

عالمی بینک کے مطابق، پاکستان کے تقریبا چالیس فیصد گھربجلی کو سہولت سے محروم ہیں،جن میں سے اسی فیصد سے زائد دیہاتوں میں رہتے ہیں۔

عالمی بینک کے سروے کے مطابق، تیس سے پینتالیس فیصد لوگ اب بھی روشنی کے لئے مٹی کا تیل استعمال کرتے ہیں اور مٹی کے تیل کا تیل چونکہ کافی مہنگا ہے اس لئے کچھ لوگ شمعیں بھی جلاکر گزارا کرتے ہیں۔

پاکستان میں پورا سال بجلی کا بحران رہتا ہے اور گرمیوں میں توبجلی کی کمی آٹھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ جاتی ہے،جسکی وجہ سے دیہی علاقوں میں چودہ گھنٹوں تک بجلی نہیں ہوتی اور شہری علاقوں کو ہر روز دس گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہنا پڑتا ہے۔

پاکستان متبادل توانائی ایسوسی ایشن کے صدر نصیر احمد کا کہنا ہے کہ متبادل توانائی کا فروغ ہی بجلی کا بحران حل کرنے کا واحد طریقہ ہے،کیونکہ شمسی توانائی کو لگانے کے لئے صرف ایک دفعہ سرمایہ لگانا پڑتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی میں سرمایہ کاری، ڈیم بنانے اور تیل کی تلاش میں پیسہ خرچ کرنے سے کہیں بہتر ہے کیونکہ اس سے گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی اور زیادہ پر اعتماد بجلی میسر آتی ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اس منصوبہ میں لوگوں کی دلچسپی بڑھانے اور زیادہ رقم اکھٹی کرنے کے لئے صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف آدھی قیمت ادا کرے جبکہ باقی کا آدھا خرچہ صارفین خود برداشت کریں۔

احمد نے صوبائی حکومت کو صاف توانائی کے فوائد کے حوالہ سے ایک آگہی مہم بھی چلانے کو کہا تاکہ لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ خود بھی شمسی توانائی کی طرف رجوع کریں، کیونکہ شمسی توانائی کے استعمال سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

حزب اختلاف کی کچھ جماعتوں کے ارکان اور کچھ صاف توانائی کے ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شمسی توانائی کو فروغ دینے کے بجائے قومی بجلی گھر کے اندر بجلی لانے والے ایسے منصوبوں پر توجہ دیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان کا کہنا ہے کہ آف گرڈ منصوبے صرف وقت اور پیسے کا زیاع ہے کیونکہ یہ عارضی اور نا پائیدار ہیں، انکا کہنا ہے کہ زیادہ تر اس منصوبہ سے فائدہ اٹھانے والے لوگ غریب ہیں اور وہ یا تو شمسی توانائی کے سارے سامان کو پیسوں کے لئے بیچ دیں گے یا پھر انکے پاس اتنے پیسے نہیں ہوں گے کہ وہ اسکی مرمت یا بیٹریوں کو تبدیل کرنے پر خرچ کر سکیں ۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت صوبہ میں چھوٹے پانی کے ڈیم بنائے کیونکہ اس سے نہ صرف بجلی پیدا ہو گی بلکہ پینے اور زراعت کے لئے بھی پانی دستیاب ہو گا۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.