نئے اختیارات کے ساتھ، پاکستان ٹمبر مافیا کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لئے تیار

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Monday, 23 March 2015 10:41 GMT

Ulfat Khattak and his younger sister work at a timber collection point in Faisalabad city in Pakistan's Punjab province, where many timber traders from the country’s Gilgit-Baltistan province sell their logs. THOMSON REUTERS FOUNDATION/Aamir Saeed

Image Caption and Rights Information

Local committees given right to detain and fine smugglers and remove officials suspected of corruption

اسلام آباد (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن) ۔۔ برائے نام سزا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ٹمبر مافیا کئی دہائیوں تک گلگت بلتستان میں جنگلات کا صفایا کرتا رہا ہے۔ لیکن، اب یہ رجحان تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ مقامی لوگ اب نئے اختیارات کے باعث مختیار ہورہے ہیں اور مافیا کے لوگوں کو جرمانہ کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران کوانکی غفلت پر گھربھی بھیج سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان صوبے کے ضلع دیامر میں چلغوزہ اور شاہ بلوت کے جنگلات تقریبا پینتیس فیصد رقبہ پر تھے جو 1980سے شروع ہونے والے جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے اب کم ہو کر صرف بیس فیصد رقبہ پر رہ گئے ہیں۔  ہمالین کنزرویشن ویلفیئر موومنٹ کے چیئرمین خان محمد قریشی کا کہنا ہے کہ اگر جنگلات کی کٹائی اسی رفتار سے جاری رہی تو اگلے بیس سالوں میں یہ صرف پانچ فیصد رقبہ پر رہ جائیں گے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اب تک تو ٹمبر مافیا کے لوگوں کو کھلی چھوٹ تھی، کیونکہ وہ مقامی لوگوں اور سرکاری افسران کو رشوت دے کر جنگلات کاٹ رہے تھے۔ تاہم، دیامرمیں ایک نئے عمل کے تحت مقامی لوگ اور سرکاری افسران اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ وہ مافیا کے لوگوں کی مزاحمت کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ ملکر کام کریں گے۔
 اب ضلع بھر کے 52 دیہاتوں میں مقامی لوگوں پر مشتمل کمیٹیوں کو حکومت کی طرف سے یہ اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ جنگلات کی غیرقانونی کٹائی میں ملوث کسی بھی فرد یا گروہ کو پکڑ اور جرمانہ کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ مقامی افسران بھی جنگلات کی کٹائی کے حوالہ سے ان کمیٹی کے ارکان کو جوابدہ ہوں گے، اور اگر دو یا اس سے زائد کمیٹی کے ارکان کسی افسر کے خلاف جنگلات کی کٹائی میں ملوث ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو اسے نوکری سے برخاست کر دیا جائے گا۔
محمد کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات کے ساتھ ایک معاہد ہ کے تحت سرکاری افسران مقامی کمیٹیوں کے ارکان کو نہ صرف جوابدہ ہوں گے بلکہ جنگلات کو بچانے کے لئے انکی تجاویز پر عمل کرنے کے بھی پابند ہوں گے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں جنگلات ملک کے تقریبا پانچ فیصد رقبہ پر محیط ہیں، اور ۲۰۱۱ میں جنگلات کے شعبہ نے پاکستان کی معیشت میں تقریباایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کا حصہ ڈالا ہے، جبکہ تقریبا  تریپن ہزار لوگوں کا روزگا ر اس شعبہ سے وابستہ ہے۔
گلوبل فارسٹ واچ کے مطابق، پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کے ساتھ ساتھ جنگلات کی کٹائی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تقریبا ستائیس ہزار ہیکٹر رقبہ پر ہر سال جنگلا ت کی کٹائی ہوتی ہے جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں بہت سے ایسے لوگ جن کو کوئی دوسرا روزگار نہیں ملتا وہ جنگلات کاٹ کر ٹمبر مافیا کو بیچ دیتے ہیں۔
چلاس کمیٹی کے ایک رکن شیر خان کا کہنا ہے کہ دیامر میں مافیا مقامی لوگوں کو پانچ سو سے آٹھ سو روپے فی مکعب فٹ کے حساب سے لکڑی کی قیمت دیتا ہے، جبکہ وہ یہی لکٹر تقریبا سات گنا زیادہ پیسوں پر ملک کے دیگر حصوں میں بیچتے ہیں۔ اسکے برعکس حکومت صرف چالیس روپے فی مکعب فٹ لکٹر پر مقامی لوگوں کو دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو کم ازکم دوہزار روپے فی مکعب فٹ لکٹر پر دیں تاکہ وہ غیر قانونی طورپر جنگلات کاٹنے والے مافیا کا حصہ نہ بنیں۔ خان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ جن جنگلات کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں وہ ان سے اپنا روزگار بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ ٹمبر مافیا کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر وہ انہی جنگلات سے حاصل ہونے والے زیرہ اور چلغوزہ سے اپنی آمدن بھی کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
دیامر پاورٹی ایلی ویئیشن پروگرام کے کمیونٹی مینیجر منظور احمد قریشی کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کو اس بات کی یقین دہانی کرانے کی اشد ضرورت ہے کہ انکے علاقہ میں موجود تمام قدرتی وسائل کے وہ مالک ہیں اور انہیں جنگلات کا درست اور ماحول دوست استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایک مقامی تنظیم علاقہ میں زیرہ اور چلغوزہ کی آرگینک سرٹیفیکیشن کر رہی ہے جس سے مقامی لوگوں کی آمدن میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔
مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مقامی لوگوں کو نئے اختیارات ملے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ٹمبر مافیا کے پاس موجود وسائل اور ٹیکنالوجی سے اب بھی کہیں پیچھے ہیں۔
گلگت-بلتستان میں محکمہ جنگلات وجنگلی حیات کے ڈویژنل فارسٹ افسر آفتاب محمود کا کہنا ہے کہ علاقہ میں تمام جنگلات پر نظر رکھنے کے لئے محکمہ جنگلات کے پاس وسائل کی کمی ہے جبکہ سمگلرز کے پاس جنگلات کاٹنے کا جدید سازوسامان موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ جنگلات بچانے اور مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے ایک خصوصی فورس تشکیل دیں۔
محمود کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سارے ایسے لوگ جو غیرقانونی جنگلات کی کٹائی میں ملوث پائے جاتے ہیں ان کو سزائیں نہیں ہوتیں کیونکہ جرمانہ کرنیکا موجودہ نظام فرسودہ ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ جنگلات کے افسران اکثر ٹمبر مافیا کے ساتھ ملے ہوتے ہیں اور انہیں کم سے کم جرمانہ کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کم وسائل کے باوجود گزشتہ سال انہوں نے تیس لکٹری چوروں کو پکڑکر جیل میں ڈالا لیکن اب وہ تقریبا سارے ہی رہا ہو گئے ہیں۔
گاؤں کی کمیٹیوں کی مشاورت اور مدد کے ساتھ، محمود کے محکمہ نے فاریسٹ ایکٹ برائے سال ۲۰۱۵کے نام سے ایک ڈرافٹ بل تیارکیا ہے جس کا مقصد جرمانے کی رقم کو بڑھا کردس لاکھ روپے تک کرنا اور جیل کی سزا کو بھی چھ ماہ سے بڑھا کر سات سال تک کرنا ہے۔ مقامی اسمبلی سے منظوری کے لئے اس بل کو مئی میں پیش کیا جائے گا۔
کنزرویشن ویلفیئر موومنٹ کے چیئرمین خان محمد کا کہنا ہے کہ وہ ٹمبر مافیا سے جنگلات بچانے کے لئے اس لئے پرامید ہیں کہ گاؤں کے لوگ اور سرکاری افسران پہلی دفعہ ساتھ ملکر کام کررہے ہیں۔ جنگلات ہماری ملکیت ہیں اور ہم کسی صورت بھی

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.