کیا کشمیرمیں پن چکیاں پاکستان کے حالیہ توانائی بحران کا حل ہیں؟

by Roshan Din Shad | Thomson Reuters Foundation
Monday, 1 June 2015 06:31 GMT

Maskeen Qureshi, of Kohori Tarari hamlet near Muzaffarabad, Pakistan, has installed a homemade turbine and a small transferring motor to produce clean energy from his waterwheel. TRF/Roshan Din Shad

Image Caption and Rights Information

Tapping the power of flowing water for more than grinding grain could pay big benefits in rural areas, millers say

مظفرآباد(تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن)۔۔۔ارشد رشید سمجھتے ہیں کہ اُن کے پاس ملک کو درپیش توانائی بحران کا حل ہے ۔پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر کے داالحکومت مظفرآباد سے 50کلومیٹر دور واقع کٹھائی گاؤں کا یہ رہائشی اپنی پن چکی یا جندر سے دن میں چند گھنٹے اور مہینے میں چند دن مکئی اور گندم پستاہے ۔

لیکن وہ گارے اور پتھر کے بنے ا پنے صدیوں پرانے جندر میں بجلی پیدا کر نے کی استعداد دیکھتا ہے ۔جو زیادہ تر بند پڑارہتا ہے ۔وہ اسے مفت اور صاف توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر نا چاہتاہے ۔

اڑتیس سالہ ارشد ان سینکڑوں چکی مالکان میں شامل ہے جو اپنی روزی روٹی انچکیوں سے کماتے ہیں ،جو نالوں کے کنارے قائم کی گئی ہیں ۔

ارشد کو یقین ہے کہ اگرہر چکی یا جندر چھوٹی ٹربائین سے جوڑ دیا جائے تو دیہی علاقے بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکتے ہیں جس سے لمبے دورانیے کی اُس لوڈ شیڈنگ پر قابوپایا جا سکتا ہیجس نے گزشتہ گرمیوں کے موسموں میں آزاد کشمیر اور پاکستان میں پُر تشدد مظاہروں کوجنم دیا۔

ارشد جنھوں نے قریب واقع پن بجلی کے منصوبے سے ترغیب حاصل کی ہے، جو بھاری ٹربائینوں سے چل رہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جندر کے لیے موڑے گئے پانی سے پورے گاؤ ں کے لیے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ اور ضرورت سے زیادہ توانائی حکومت کو فروخت کر کے نیشنل گرڈ میں بھی شامل کی جا سکتی ہے ۔

موسم گرما کے آغازپر مئی کے مہینے میں ملک کے میدانی علاقوں میں جب گر می کی تپش شروع ہو ئی تو اُس وقت پاکستان کو بجلی کی پانچ ہزار میگا واٹ کی کمی کا سامنا تھا ۔

اے جے کے کو اپنی ضرورت سے تین گناہ زیادہ بجلی پیدا کر نے کے با وجودبرابر بجلی بندش کا سامنا کر نا پڑتاہے ۔یہا ں سے پیدا ہو نے والے بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کیے جا نے کی وجہ سے اے جے کے کو لوڈشیدنگ کا شکار کر دیا ہے ۔

سیکرٹری برقیات اے جے کے فیاض علی عباسی نے تھاسن رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ پورے اے جے کے کی ضرورت تین سو میگا واٹ ہے جبکہ پیداوار گیارہ سو تینتینس میگا واٹ ہے ۔

وزیراعظم پاکستان میا ں نواز شریف کی حکومت نے ملک کو یقین دلایا ہے کہ ۸۱۰۲تک توانائی کے زیر تعمیر بہت سے بڑے منصوبے مکمل ہو نے پر ہزاروں میگا واٹ بجلی نیشنل گر ڈ میں شامل کر کے ملک کو درپیش بجلی کے بُحران پرقابو پالیا جائے گا ۔

لیکن ارشد کہتے ہیں کہ توانائی کے بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے حکومتیں اور غیر سرکاری اداروں کو چھوٹے پیمانے پر بجلی پیدا کر نے کے لئے جندر مالکان کی مدد کرنی چاہئے ۔جس کے لیے صرف پانچ لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔تاہم ،وہ شکوہ کرتیہیں کہ ابھی تک کہیں سے کو ئی مدد نہیں ملی ۔

چھوٹے منصوبے ۔۔۔۔بڑے فوائد
کچھ جندر مالکان نے اپنی مدد آپ کے تحت جندروں سے فائدہ اُٹھا نے کے لیے کام شروع کر دیا ہے ۔مظفرآباد کے قریب کہوڑی ہوتریڑی گاؤں کے مسکین قریشی نے دو سال قبل اپنے جندر کے ساتھ ہاتھ سے بنائی ہوئی ٹربائین اور موٹرنصب کی۔

مسکین کے بیٹے نے ٹربائن کے بنانے اور نصب کر نے میں اُسکی مدد کی جبکہ پڑوسی گاؤں کے ایک سماجی راہنما نے اُسے ایک چھوٹی سی سے موٹر دی ۔موٹر کو ٹیلی فون کی ناکارہ تاروں سے برقی بلب سے جوڑا گیا ۔اور پورے منصوبے پر مسکین کے چند ہزارروپے خرچ ہوئے۔

اسکی ٹربائین سے پیدا ہو نے والی توانائی اسکے جندر کے علاوہ نصف درجن گھروں کو مفت بجلی مہیا کر تی ہے ۔مسکین کہتے ہیں کہ ٹربائین جندرکے چوتھے حصے پانی سے ہمارے گھروں کو روشن بھی کر تی ہے اور موبائل بھی چارج کرتی ہے۔ 

وہ بتاتے ہیں کہ ایک لاکھ روپے کی لاگت سے وہ ٹربائن کو سیمنٹی بیس کے ساتھ فکس کر سکتے ہیں اور زیادہ گنجائش کی موٹر نصب کر کے گاؤں کے تمام اٹھارہ گھروں کو دن رات بجلی فراہم کر سکتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ اگرکوئی (حکومت) ہماری مدد کرے تو ہم انکے مشکور ہو نگے ۔

ؓبحالی و تعمیر نو ایجنسی سیراء کے نائب ناظم سردار محمد رفیقکے مطابق اے جے کے میں ندی نالوں پر چھوٹیپن بجلی منصوبے ملک کو درپیش توانائی کی قلت اور ماحولیاتی خطرات کو کم کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس سے نیشنل گرڈ پر دباؤ کم ہو نے کے علاوہ اس کوشش سے جنگلات کی تباہی کو بھی کم کیا جا سکے گا۔

رفیق کہتے ہیں کہ جندر اور چھوٹے پن بجلی منصوں سے توانائی کی پیداوار سے ایندھن کے لیے جنگلات کی کٹائی میں کمی آئے گی۔

جب وزیر خزانہ اے جے کے چوہدری لطیف اکبر سے جندروں سے بجلی حاصل کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی ایسے منصوبے کے لیے مدد مہیاکر نے کو تیار ہے ۔جس میں مقامی آ بادی شراکت دار ہو ۔ انہو ں نے کہا کہ وہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو کہیں گئے کہ وہ اس کا جائزہ لیں کہ اسے کس بہترطریقے سے کیا جا سکتا ہے ۔

لیکن اب تک ارشد کی طرح پن چکی مالکان جو پانی کو طاقت میں بدلنا چاہتے ہیں اورحکومتی تعاون کی راہ تک رہیں ۔تاہم وہ اس ضمن میں پیش رفت نہ ہو نے پر نالاں ہیں ۔

ارشد کہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو تیکنیکی اور مالی معاونت مہیا کر کے وسیع علاقے پر پھیلے ہوئے ان جندروں سے ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن نہ تو حکومت اور نہ ہی غیر سرکاری ادارے اس ماحول دوست روایتی صعنت کو ترقی دینے کے لیے کو ئی قدم اُٹھا رہے ہیں ۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.

Themes