پاکستان میں تھیٹر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی پیدا کر رہا ہے

by Aamir Saeed | @AamirSaeed_ | Thomson Reuters Foundation
Tuesday, 20 October 2015 05:26 GMT

Community actors perform a climate change drama at an open-air theatre in Badin district, Sindh province, Pakistan. TRF/Aamir Saeed

Image Caption and Rights Information

How do you communicate the risks of climate change? How about with local actors on an open-air stage?

بدین، پاکستان (تھامسن رائٹرزفاؤنڈیشن) ۔۔۔ میر محمد کا خاندان بہت خوش تھا کیونکہ چاول کی فصل کی کٹائی کے بعد وہ ایک شادی خوب دھوم دھام سے کرنے جارہے تھے، لیکن پھر سیلاب اس خاندان کی تین ہیکٹرپر کھڑی فصل اور ان کے تمام خوابوں کو بہا کر لے گیا۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں ایک عارضی اسٹیج پر تھیٹر کا اس طرح سے آغاز ہوتا ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے لوگ مختلف حل تلاش کر رہے ہیں۔اس کھیل میں محمد کی ماں کا کردار ادا کرنے والی ذلیخا بی بی افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ قدرت نے انکے تمام منصوبوں کو برباد کر دیا ہے۔ ا س کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بڑے بیٹے کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ سیلاب نے انکی ساری خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔

اس علاقے کے سو سے زائدغریب کسان اور مچھیرے مرد، عورتیں اور بچے تھیڑ کو دیکھنے کے لئے ایک کھلے میدان میں جمع ہوئے تھے، جہاں ایک لوک فنکا ر نے بھی ان کے دکھوں اور مشکلات کو ایک گانے میں بیان کیا ۔

کراچی میں ایک غیر سرکاری تنظیم پاکستان فشر فوک فورم ،جو غریب مچھیروں کی سماجی اور معاشی بہتری کے لئے کام کرتی ہے، اس نے تھیٹر کا آغاز کیا ہے،اور اسکے ذریعے وہ لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے نہ صرف آگاہی دے رہے ہے بلکہ انہیں اسکے مختلف منفی اثرات سے نمٹنے کے طریقوں سے بھی آگاہ کررہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کی پراجیکٹ مینیجر ماریہ سومرو کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں بیشتر لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں وہاں تھیٹر کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے حوالہ سے آسانی سے آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے۔

مقامی زبان، گانوں اور لوک کہانیوں کے ذریعے خشک سالی، سیلاب اور بے موسمی بارشوں کے ذراعت اور فصلوں پر ہونے والے اثرات کے بارے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ بدین کے اسٹیج پر اداکارحاضرین کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیسے سخت موسم انکی پڑھائی پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

بارہ سالہ فرزانہ بنگش نے تھامسن رائٹرز کو بتایا کہ وہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی لیکن گزشتہ سال سیلاب کی وجہ سے اسے اپنی پڑھائی چھوڑنا پڑگئی ۔خوش قسمتی سے اس طرح کے پیغامات نے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا شروع کر دی ہے۔

کسان شگفتہ بھیل کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جون میں ایک شو دیکھنے کے بعد اس نے چاول اور گندم کے ولائیتی بیج کاشت کرنا ترک کردیے ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ یہ بیج سخت موسم کا مقابلہ نہیں کرسکتے،اس کا کہنا ہے کہ وہ اب مقامی بیج کاشت کر رہی ہے جس سے اسکو فصلوں کی پیداوار بھی اچھی مل رہی ہے۔

ایک امریکی تھنک ٹینک ورلڈ ریسورسز انسٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال سات لاکھ پندرہ ہزار لوگ سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں اور دو ہزار تیس تک ایسے لوگوں کی تعداد بیس لاکھ ہو جائے گی۔
ماریہ سومرو کا کہنا ہے کہ وہ سیلاب اور خشک سالی سے متاثرہ ہر خاندان کو کھانا تو نہیں دے سکتے لیکن انہیں ان مسائل کے بارے میں آگاہی ضرور دے سکتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔

پاکستان فشر فوک فورم نے جون دو ہزارچودہ میں کراچی سے تھیٹر کا آغاز کیا تھا اور اب تک وہ سندھ کے چھ مختلف اضلاع میں بیس سے زائد کھیل کا انعقاد کر چکا ہے، سومرو کا کہنا ہے کہ ہر کھیل کے لئے پندرہ رضاکار اداکا ر حصہ لیتے ہیں اور انہیں کسی کھیل سے پہلے ایک ہفتہ کی تربیت بھی دی جاتی ہے، کچھ اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ملکر وہ تھیٹر کو صوبہ کے کچھ دوسرے اضلاع میں لے کر جانے کی بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کو سمجھنا ایک مشکل عمل ہے اور اس کے لئے تھیٹر کا استعمال بہت ہی مفید ہے۔ایک غیر سرکاری تنظیم پتن کے نیشنل کوارڈینیٹر سرور باری کا کہنا ہے کہ تھیٹر ایک فن ہے اور لوگ اسے دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں اور اس طرح اہم پیغامات بھی کھیل کود کے ذریعے ان تک پہنچائے جاتے ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم آکسفام کے غذائی تحفظ کے ماہر شفقت عزیز کا کہنا ہے کہ تھیٹر لوگوں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے اور لوگ اپنے مقامی نمائندوں سے فصلوں کی انشورنس اور غذائی تحفظ سے متعلق حکومتی پالیسیوں کے بارے میں اب پوچھتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ آگاہی لوگوں کو فیصلہ کرنے کی طاقت بخشتی ہے اور اس طرح لوگ موسمیاتی تبدیلی ایسے مسائل کا حل ڈھونڈنابھی شروع کر دیتے ہیں۔

تیس منٹ کا کھیل جب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو ایک کردار سکندر صنم حاضرین کو متوجہ کر کے بیج کی بات شروع کرتا ہے، وہ تجویز دیتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی ایک حکمت عملی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لو گ اپنی مقامی فصلوں کے بیج اکٹھا کرنا شروع کر دیں۔صنم کا کہنا ہے کہ مقامی بیج آسانی کے ساتھ سیلاب اور خشک سالی ایسی آفتوں سے نمٹ سکتے ہیں اس لئے ان بیجوں کو محفوظ کرنے کے لئے ایک مقامی بیج بینک بنانا چاہیے، اس پر اونچی آواز میں تمام حاضرین رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.