پاکستان میں گلیشئل لیک فلیش فلڈز سے پیدا ہونے والی جانی ومالی نقصانات میں کمی لانے کے لیے اقدامات

by Saleem Shaikh and Sughra Tunio | @saleemzeal | Thomson Reuters Foundation
Sunday, 27 December 2015 22:41 GMT

A boy looks at the snow-capped Hindu-Kush mountain peaks in flood-prone Bindo Gol valley in Pakistan's Chitray district, while standing near a flood protection wall. TRF/Saleem Shaikh

Image Caption and Rights Information

When mountain outburst floods become unavoidable, building to divert the water can help, experts say

وادئ بگروٹ ، پاکستان (تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن)۔۔۔ پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں پانچ برف پوش پہاڑیوں کے دامن میں واقع قدرتی مناظر سے بھرپور وادئ بگروٹ آج سیلاب جیسے خطرات سے دوچار ہے۔ 

جیسے جیسے گلیشئرز پگھل رہے ہیں ، پیچھے برفانی جھیلیں بنتی جارہی ہیں ۔ بنیادی طور پر غیر مستحکم، یہ قدرتی ڈیمز اچانک پھٹ جانے کے بعد نچلے علاقوں میں سیلاب آجاتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی گاؤں سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔ 

مگر ایک منصوبے کے تحت بننے والی سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے خاص قسم کی دیواروں سے اب بگروٹ وادی میں واقع کئی گاؤں کو سیلابی خطرے سے محفوظ بنادیا گیا ہے۔ 

پاکستان گلیشئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ پروجیکٹ کے نیشنل مینجر خلیل احمد کہتے ہیں کہ ران برفانی ڈیمز کے پھٹنے کے کچھ ہی وقت میں کئی ملین کیوبک فیٹ میٹرز پانی اور مٹی کا سیلاب آنے کا خطراہ ان گاؤں پر ہر قت منڈلاتا رہتا ہے۔

یہ تقریباً ساڑھے سات ملین ڈالرز کا چار سالہ منصوبہ گلگت بلتستان کی وادئ بگروٹ اور چترال کی ندوگول ویلی کے دس گاؤں میں سال ۱۱۰۲ میں شروع کیا گیا تھا۔ 

سیلاب کے بھاؤ سے گاؤں کو بچانے کے لیے مختلف قسم کی دیواریں بنادی گئی ہیں تاکہ لوگوں کے مالی و جانی نقصان کو روکا جاسکے۔ 

پانی کے رُخ کو موڑنا

یہ منصوبہ حکومتِ پاکستا ن نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، اقوامِ متحدہ کے اڈپٹیشن فنڈ کی مالی و تکنیکی مدد سے شروع کیاجو گلیشئرز لیک آؤٹ برسٹ فلڈز کے نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جاچکا ہے۔

آلوکاشتکار شہادت نور نے تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ جب بگروٹ وادی میں اپریل سال ۴۱۰۲ اور جولائی ۵۱۰۲میں گلیشئل لیک پھٹی تھیں، تب فلیش فلیڈ کے واقعات رونما ہوئے تھے ۔ مگر اس منصوبے کے باعث گاؤں اور فصلات محفوظ رہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے باعث لوگوں میں اس معاملے پر اعتماد پیدا ہوا ہے کہ وہ اب سیلاب سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ 

دوبانی ڈوولپمنٹ آرگنائیزشن کے مظہر حُسین کہتے ہیں کہ مقامی لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ گلیشرز کے پگھنلے کے عمل کو نہیں روک سکتے ، مگر کم از کم اُن کے نتیجے میں پیداہ ہونے والے سیلابوں، لینڈسلائیڈنگ اور زمینی کٹاؤ کے نتیجے میں ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ منصوبہ اس سلسلے میں مددگار ثابت ہورہا ہے۔ 

مظہر حُسین کا مزید کہنا ہے کہ ان منصبوبے کے تحت نو سیف ہیون یا ڈزاسٹر سے محفوظ جگہیں بنائی گئی ہیں جو علاقے میں کسی بھی قدرتی آفات کے وقت مقامی لوگ عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرسکتیں ہیں۔ 

گذشتہ تین سالوں کے دوران،بگروٹ وادی کے پندرہ مختلف دیہاتوں ایسی سیف ہیون یا ڈزاسٹر سے محفوظ جگہیں میں تعمیر کی گئی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پذیری
پاکستان میٹرولاجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق، سال ۲۰۱۰ تک ملک کے شمالی علاقوں میں تقریباً چوبیس سؤ گلیشئل جھیلیں موجود تھی۔ اب ان میں اضافہ ہونے کے بعد ان کی تعداد ۳۰۰۰ تک پہنچ گئی ہے۔ اور اس تعداد میں عالمی حدت کے نتیجے میں اضافہ ہورہا ہے۔ 

اس محکمے کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول کہتے ہیں کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران سات گلیشئل لیک کے پھٹنے کے واقعات رکارڈ کیے گئے ہیں۔ اور پاکستان کے شمال میں ۵۲ ایسی گلیشئل جھیلی موجود ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہیں۔

یہ گلیشیائی جھیلوں کے بننے اور پھٹنے اور تباہ کن سیلاب کے واقعات رونما ہونے کا معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ ایسے خطرات نیپال، بھوٹان اور انڈیا میں بھی موجود ہیں۔ 

جون سال ۲۰۱۳ میں، انڈیا کے شمالی ریاست اُترکھنڈ میں ایک خطرنا ک سیلاب کے آنے کے نتیجے میں تقریباً ۵۰۰۰ سے زیادہ لوگ مرگئے تھے ۔ دوسری طرف، نیپال میں اگست ۲۰۱۴ میں سنکوشی لینڈسلائیڈ کے نتیجے میں تقریباً ۱۵۰ لوگوں کی اموات واقع ہوئی تھیں۔

پاکستان میں واقع گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈی سینٹر کے ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔تاہم متعلقہ سرکاری اداروں کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے جانی و مالی نقصان کو کم از کم کیا جاسکے۔ اور اس سلسلے میں پاکستان گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کا منصوبہ اہم نمونہ ہے۔ 

Our Standards: The Thomson Reuters Trust Principles.